• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home حماس

جرمنی حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل میں ثالثی کے لیے تیار

ہفتہ 11-07-2015
in حماس
0
plf ready-to-mediate
0
SHARES
2
VIEWS

اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ جرمن انٹیلی جنس حکام نے اسرائیلی حکومت اوراسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کرانے کے لیے ثالثی کی پیش کش ہے۔ دوسری جانب جرمن حکومت نے غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے یہودیوں کا معاملہ جلد ازجلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عبرانی اخبار”میکور ریچون” نےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جرمنی ایک بار پھر حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرنے کو تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمن انٹیلی جنس حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کےتبادلے کا معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبارات لکھتے ہیں کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پرغزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے یہودیوں کے معاملے پر اندرون ملک اور بیرونی سطح سے بھی سخت دبائو کا سامنا کررہے ہیں۔

اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو اندرونی اور بیرونی دبائو کاسامنا ہے۔ ان سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے دو فوجیوں اور دو مردہ فوجیوں کی میتیں واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کی جانب سے غزہ میں قید ایتھوپیائی یہودی ابراہام مینجسٹو کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت مینجسٹو کی رہائی کے لیے موثر اقدامات کررہی ہے۔ وزیراعظم کے مقربین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے غزہ میں حماس کے ہاں قید یہودیوں کا معاملہ حل کرنے میں تاخیر سے عوامی دبائو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایتھوپیائی نسل کےیہودی پہلے ہی نیتن یاھو کی پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں اور وہ پچھلے کئی ماہ سے اپنے ساتھ ہونے والے نسل پرستانہ سلوک کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ سول سوسائٹی بھی ان کے ساتھ ہے۔ اگر وہ ابراہام منجسٹو کی رہائی کے لیے کوئی تحریک چلاتے ہیں تو نیتن یاھو کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کیونکہ احتجاج پرتشد شکل اختیار کرگیا تو اس کے نتائج کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔ وزیراعظم ہائوس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو غزہ میں یرغمال یہودیوں کی رہائی کے معاملے میں لاپرواہ نہیں ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ اگر یہودیوں کی رہائی کے ایشو پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو اس کےنتیجے میں ان حکومت بھی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے ہفتے اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے فوج اور حکومت کے بیانات کے حوالے سے بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں دو زندہ یہودی یرغمال ہیں جب کہ دو مردہ صہیونی فوجیوں کی باقیات بھی حماس کے قبضے میں ہیں۔ یہ فوجی پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں القسام بریگیڈ کے حملے میں مارے گئے تھے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.