حماس کی سیاسی بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ جس وقت سے فلسطینی فریقوں نے فلسطینی مفاہمتی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اس وقت سے امریکی ویٹو موجود تھا۔
ابو مرزوق نے پیر کے روز غزہ کے "بیت الحکمت” میں علماء اور اسکالرز کی میٹنگ کے دوران بتایا کہ ان کی تحریک اور تحریک فتح نے مفاہمتی منصوبے کی راہ میں حائل ہونے والی بہت سی رکاوٹوں پر قابو پانے میں کامیابی حاص کرلی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ الیکشنز تمام فلسطینی مسائل کا حل فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ ان سے معاملات مزید الجھ سکتے ہیں اور اس کے علاوہ فلسطینی ریاست ابھی بھی اسرائیلی قبضے میں موجود ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نئی اسمبلی تخلیق کی جائے جو فلسطینی اداروں کی تعمیر نو کرے اور نیا آئین بنائے۔
اس موقع پر حماس کے سینئیر رہنما عماد العلمی نے بتایا ہے کہ ان کی تحریک کی جانب سے قومی مفاہمت کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔
