رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان حسام بدران نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ ایام میں قابض صہیونی فوج کی جانب سے نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں کئی کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ یہودی آباد کاروں پر چاقوں اور چھریوں سے حملوں کے الزام میں بھی نہتے فلسطینیوں کو گولیوں سے نشانہ بنایا گیا۔ دنیا بھر میں ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا۔ نہتے شہریوں پر گولیاں چلانے اور انہیں قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے آٹھ ایام میں فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور وحشیانہ تشدد سے 7 فلسطینی شہید اور 800 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں بیشتر کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینی عوام آزادی کے لیےآئینی اور قانونی جنگ لڑ رہےہیں۔ اس لیے ہم دشمن کے سامنے سفید پرچم نہیں لہرائیں گے۔ چاہے قربانیوں کا سلسلہ کتنا طویل کیوں نہ ہوجائے قابض دشمن کی جارحیت اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کی تحریک جاری رکھی جائے گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی جانب سے صہیونی جارحیت کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی سے واضح ہوگیا ہے کہ فلسطینی قوم دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت کا ہتھیار پوری قوت سے تھامے ہوئے ہے۔
حسام بدران کا کہنا تھا فلسطین کی نوجوان نسل نے اپنی جرات اور لازوال قربانیوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ قوم قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کے ہمہ وقت آمادہ و تیار ہے۔
