ترجمان کی جانب سے بیان غزہ کی سرحد پر واقع پر اسرائیلی قصبات کے ناظمین سے ملاقات کے دوران سامنے آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ سے پھینکے جانے والے اکا دکا راکٹ حملوں کے جو کہ خالی جگہ پر گریں، جواب میں غزہ پر فوجی آپریشن شروع نہیں کرے گا۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی خاطر کام کیا جارہا ہے تاکہ راکٹ حملوں اور سرنگوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔
قابض اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز علی الصباح غزہ سے راکٹ حملے کا بہانہ بنا کر ایک مزاحمتی پوسٹ پر فضائی حملہ کیا تھا۔
اسرائیلی سیاسی اور فوجی عہدیداران کا خیال ہے کہ یہ حملہ سلفی گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا جو کہ اسرائیل کو حماس کے ساتھ ایک اور جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔
پچھلے سال 51 دن تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کے 2300 شہری شہید ہوگئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی جبکہ دسیوں ہزاروں لوگ زخمی بھی ہوگئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
