مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں مصری فوجیوں کی جزیرہ نما سینا میں دہشت گردی کے حملوں میں شہادت کے حوالے سے لگائے ایک تعزیتی کیمپ سے خطاب میں کیا۔ خیال رہے کہ جمعہ کے روز فلسطین سے متصل جزیرہ نما سینا میں نامعلوم افراد کے بم حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 33 مصری فوجی ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
غزہ میں تعزیتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے ابو مرزوق نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حماس کیا کوئی ایک فلسطینی بھی مصر کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچ سکتا ہے۔ جزیرہ سینا میں مصری فوجیوں پر جو حملے ہوئے ہیں ان سے کسی فلسطینی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی فلسطینی مصر کی مسلح افواج کو اس طرح دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔
حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ کسی غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے کسی فلسطینی باشندے پر مصری فوجیوں پر حملہ ثابت نہیں کیاجا سکا ہے۔ اس طرح کے الزامات صرف اسرائیل کی طرف سے آنکھیں بند کرکے دیئے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ان کی جماعت حماس جزیرہ سینا میں ہوئی دہشت گردی کی کارروائی کی شدید مذمت کرتی ہے کیونکہ جزیرہ سینا میں امن فلسطین میں امن و سلامتی کے ساتھ مربوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصری فوجیوں پر حملہ اسرائیل اور فلسطین دشمن قوتوں کی سازش ہوسکتی ہے جو غزہ کی پٹی کی تعمیر میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں۔ مصری فوجیوں پر حملہ فلسطینیوں کے خلاف گہری سازش معلوم ہوتی ہے تاکہ اس سازش کے ذریعے مصر اور غزہ کے درمیان تعلقات کو بگاڑ کر جنگ سے تباہ حال علاقے کی تعمیر نو کی راہ روکی جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
