مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی تحریک کے رہ نما الشیخ کمال الخطیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جولائی 2013 ء کو مصرمیں اخوان المسلمون کی منتخب اور آئینی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت دراصل اسرائیل کے لیے مصرمیں داخلے کی راہ ہموار کرنے کی ایک سازش تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اب اسرائیل اور مصری حکام ہرہفتے ایک یا دو بار ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد فلسطین بالخصوص غزہ کی پٹی کے عوام کا گھیرا تنگ کرنے کی سازشوں کو آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہرسوموار کو اسرائیل کا ایک وزیر قاہرہ کے دورے پرجاتا ہے جہاں اس کی ملاقات مصرکی موجودہ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت سے بھی کرائی جاتی ہے۔ ان ملاقاتوں میں غزہ کی پٹی کے شہریوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مزید طریقوں پر بات چیت کی جاتی ہے۔
الشیخ کمال الخطیب نے مصری عدالت کی جانب سے اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ مصری عدالت کا فیصلہ مصری عوام کے فیصلے اور اجتماعی سوچ کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ دشمنانہ طرز عمل مصرکی موجودہ حکمراں قیادت کی پالیسیوں کا اظہار ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
