مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق گروپ”ڈیموکریٹک ہیومن راٹیس سینٹر” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پراسرائیل کی مسلط کردہ معاشی ناکہ بندی سے فلسطین کے اس گنجان آباد کاعلاقے با عالمی دنیا سے رابطہ پچھلے نوسال سے منطقع ہے۔ عالمی برادری کے ساتھ رابطوں کے انقطاع نے غزہ کی پٹی میں انسانی المیے کو جنم دیاہے اور رہی سہی کسرصہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کی پٹی باربار جنگوں کے مسلط کیے جانے نے نکال دی ہے۔ اس وقت غزہ کی پٹی کے لاکھوں عوام کو نہ صرف تعمیر نو کے ایک بڑ اور سنگین چیلنج کا سامنا ہے بلکہ اپنی زندگی کی بقاء کے لیے روزی روٹی کے حصول کی بھی مشکلات بھی درپیش ہیں۔ ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے اسپتالوں کو بھی ناکار بنا دیا ہے، جہاں طبی عملہ تو ہے مگر ادویات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
غزہ کے عوام کو درپیش مشکلات کا واحد حل اس کی تمام بیرونی راہ داریوں کو کھولے جانے میں مضمرہے۔ یہ عالمی برادری اور تمام عرب اور مسلمان ممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے دو ملین لوگوں کو دنیا کی کھلی جیل سے نجات دلائی اور غزہ کے دیگر دنیا کے ساتھ رابطے بحال کیے جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال 24 اکتوبر کو مصرکے جزیرہ نما سینا میں مصری فوجیوں پر حملے کے بعد سے اب تک 136 ایام سے غزہ کی رفح گذرگاہ مسلسل بند ہے۔ ان سات مہینوں میں غزہ کے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضاہ ہوا ہے۔ شہریوں کو بیرون ملک علاج کے جانے کی اجازت نہیں اور باہر سے غزہ کی پٹی میں ادویات بھجوانے کا عمل بند ہے۔ اس ظالمانہ پالیسی کے نتیجے میں درجنوں قابل علاج مریض بھی اپنی جانیں نہیں بچا پائے ہیں، کیونکہ انہیں نہ تو بیرون ملک علاج کے لیے جانے دیا گیا اورنہ ہی باہرسےادویات غزہ لانے دی گئیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ غزہ کی پٹی کے ان ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل بھی تاریک کردیا گیا ہے جو بیرن ملک یا مصرکی جامعات میں زیرتعلیم ہیں۔ باہر موجود طلباء واپس غزہ نہیں آسکتے اور چھٹیوں پرآئے طلباء کوباہر نہیں جانے دیا جا رہا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
