ریڈ کراس کی ترجمان سہیر زقوت نے غزہ کی پٹی میں مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جولائی 2014 ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ نے اہالیان غزہ کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا۔ فلسطینیوں کی ان مشکلات کی ذمہ داری عالمی برادری پرعاید ہوتی ہے جو اہالیان غزہ کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی المیے کا مستقل بنیادوں پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جنگوں اور معاشی محاصرے سے تباہی سے دوچار علاقے کے عوام کو سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔
غزہ پر جنگ مسلط کرنے کی مذمت
انسانی حقوق کی تنظیم”ریڈ کراس” کی خاتون عہدیدار نے جولائی اور اگست 2014 ء میں اکاون تک اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر جاری رہنے والی جنگ اور اس میں ہونے والے غیرمعمولی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ سہیر زقوت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں پچھلے سال مسلط کی گئی جنگ کے بعد کی صورت حال جنگ سے پہلے کے حالات سے زیادہ خوفناک ہوچکی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی کےشہریوں کی نقل ورحرکت پرپابندیاں عاید کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی بھی روک دی ہے۔ پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات نہیں مل رہیں۔ شہری بے روزگار ہیں اور غربت میں آئے روز اضافہ ہو رہاہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک عشرے میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر تین بڑی جنگیں مسلط کیں مگر سنہ دو ہزار چودہ کی جنگ نہایت تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس جنگ میں کم سے کم 2400 فلسطینی شہید اور 11 ہزار سے زاید زخمی اور معذور ہوئے۔ یوں جانی نقصان کے اعتبار سے یہ جنگ پچھلی دو جنگوں کی نسبت زیادہ تباہ کن رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
