مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "اوچا” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ میں مصری حکومت کی طرف سے بہت زیادہ "انسانی ہمدردی” کا مظاہرہ کرتے ہوئے رفح گذرگاہ کو صرف پانچ دن کے لیے کھولا گیا۔ ان میں سے بھی تین دن صرف یک طرفہ طورپر کھولی گئی۔ اس دوران صرف پانچ ہزار افراد یک طرفہ طورپر سرحد عبور کرکے دوسری طرف جاسکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی مغر بی کنارے سے متصل گذرگاہ "بیت حانون” کی بندش کے بعد غزہ کی پٹی کا بین الاقوامی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ رفح راہ داری ہے لیکن پچھلے ڈیڑھ سال سے مصری حکومت نے رفح گذرگاہ بھی مسلسل بند کر رکھی ہے۔ جون 2013 ء میں مصرمیں منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ملک میں جو سیاسی غیریقینی اور افراتفری پھیلی تھی اس کے اثرات رفح گذرگاہ پربھی مرتب ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 ء کے دوسرے نصف میں رفح گذرگاہ 97 دن تک بند رہی اور اس دوران فلسطینیوں کی سنہ 2012 ء کی نسبت رفح گذرگاہ سے آمد ورفت میں 27 فی صد کمی آگئی تھی۔
سنہ 2014 ء میں مجموعی طورپر رفح گذگارہ 158 دن تک بند رکھی گئی تاہم سال بھرمیں ایک لاکھ فلسطینیوں کو بیرون ملک آمد و رفت کی اجازت ملی۔ پچھلےسال اکتوبر میں جزیزہ نما سینا میں تیس مصری فوجیوں کی ہلاکت کے بعد قاہرہ حکومت نے رفح گذرگاہ کوغیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیا تھا۔
اقوام متحدہ نے رفح گذرگاہ کی بندش اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہزاروں افراد زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا ہیں اور وہ علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے مگر مصری حکومت کی جانب سے رفح گذرگاہ کی بندش کےباعث وہ علاج کی سہولت سے محروم ہیں۔ اس کےعلاوہ ہزاروں طلباء کا مستقبل بھی دائو پرلگا ہوا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
