مرکز اطلاعات فلسطین نے جنگ کے ایک دوسرے پہلو پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی انتہا پسند کابینہ کی خواہش تھی کہ غزہ کی پٹی پر مستقل قبضہ کر لیا جائے اور علاقے کے تمام اہم مقامات پر فوج تعینات کر دی جائے لیکن فوج نے کابینہ کو بتایاکہ غزہ کی پٹی پر مستقل قبضہ اتنا آسان نہیں جتنا کہ حکومت نے سوچ رکھا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی کابینہ میں غزہ کی پٹی پرمستقبل قبضے کے حوالے سے ہونے والے بحث کے منظرعام پرآنے پربھی اسرائیلی حکومت سخت پریشانی میں مبتلا ہے، اہم بات یہ ہے کہ یہ راز خود وزیراعظم نیتن یاھو کے دفتر سےا ن کی ہدایت کے مطابق ہی افشاء ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی کابینہ میں غزہ کی پٹی میں مستقل بنیادوں پر فوج داخل کیے جانے کے معاملے پر بحث چل رہی تھی۔ اس دوران محکمہ دفاع، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سےغزہ پر مستقل قبضے کے مضمرات کے حوالے سے رپورٹس پیش کی گئیں۔ ان رپورٹس میں بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی پرایک مرتبہ پھرسے قبضہ نہایت مشکل اور اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا، کیونکہ غزہ کے تمام مقامات تک فوج کا کنٹرول قائم کرنے کے لیے پانچ سال کا عرصہ لگے گا۔ اس عرصے میں اسرائیلی فوج کو کم سےکم 20 ہزار فلسطینی گوریلا جنگجوؤں کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کو اپنے ہزاروں فوجیوں اور سولین کی قربانی بھی دینا ہوگی۔ مصر اور اردن کے ساتھ امن معاہدے کھٹائی میں پڑ جائیں گے جبکہ معاشی میدان میں ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہوگا۔
فی الوقت اس خسارے کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم یہ کھربوں ڈالر کی گیم ہو سکتی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ اگراسرائیل غزہ کی پٹی پر مستقل قبضہ کرتا ہے توغزہ کی پٹی میں مزید تباہی پھیلے گی اور ہزاروں فلسطینی شہید اور لاکھوں زخمی اور بے گھرہوسکتے سکتےہیں۔ سیکڑوں اسرائیلی فوجی اغواء کیے جاسکتے ہیں۔ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں غیرمعمولی اضافہ اسرائیل کو عالمی برادری میں تبہا کردے گا کیونکہ چوبیس روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں اسرائیل کے کئی دوست ممالک میں بھی
بڑے پیمانے پر اسرائیلی معیشت کا بائیکاٹ کیا گیا، جس نے اسرائیلی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔
صرف یہی نہیں بلکہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں دھماکہ خیز مواد کو تلف کرنے اور بارودی سرنگوں اور زمین دوز بنکروں کے خاتمے میں بھی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
اسرائیلی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی پر مستقل قبضے کےلیے لڑائی کے دوران اس کے بعد مقبوضہ مغربی کنارا، سنہ 1948ء کی جنگ میں اسرائیل کے زیرتسلط آنے والے علاقوں اور دیگر فلسطینی شہروں میں اسرائیل کے خلاف شدید رد عمل سامنے آئے گا۔ یہ رد عمل اسرائیل کے خلاف مسلح تحریک کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے۔ اگر فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف مسلح بغاوت شروع کردی تو اس کے نتیجے میں فلسطین کے چپے چپےپرآباد کیے گئے یہودی آباد کاروں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اس لیے اگرحکومت غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں فوج داخل کرنا اور مستقل قبضہ چاہتی ہے تو اسے یہ تمام حالات سامنے رکھنا ہوں گے۔ ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ سیکیورٹی اداروں کی حقائق پر مبنی رپورٹس کے بعد صہیونی کابینہ خوف کا شکار ہوگئی اور اس مخمصے میں مبتلا تھی کہ آیا وہ غزہ کی پٹی کے مستقبل کے حوالے سے کیا فیصلہ کرے۔ کیونکہ مستقل قبضہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا تھا۔
