رفح گذرگاہ کی بندش غزہ کی ناکہ بندی کے ظلم ہی کی ایک شکل ہے مگر اس میں مصری فوجی سرکار ملوث ہے۔ جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے رفح کی بندش کے باعث غزہ کے عوام کی آلام و مصائب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ہزاروں فلسطینی بیرون ملک ملازمت، روزگار، علاج اور تعلیم کے لیے جانے کے لیے پریشان ہیں مگرمجال کے مصری حکومت کومفلوک الحال محصورین غزہ کی مشکلات کا ذرا بھی احساس ہو۔
’’انفو فیلم‘‘ کے عنوان سے رفح کی بندش کے باعث غزہ کے مکینوں کی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے چونکا دینے والے اعدود شمار بیان کیے ہیں۔ رپورٹ میں آپ مشکلات کا شکار فلسطینیوں کی آہ وزاری کا اندازہ کرسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بیان کردہ چند نکات
رفح غزہ کی عالمی رابطے کی واحد راہ داری ہے۔
غزہ کی پٹی میں وزارت داخلہ کے ہاں بیرون ملک فوری سفر کے خواہاں 30 ہزار افراد نے اپنی رجسٹریشن کرا رکھی ہے مگر گذرگاہ کی بندش کے باعث وہ سفر نہیں کر سکے ہیں۔
ان میں 3000 طالب علم ہیں جو بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے جانا چاہتےہیں۔
آٹھ ہزار فلسطینی دوسرے ملکوں کی شہریت رکھتے ہیں مگرغزہ میں بند ہیں۔
1800 کینسر کے مریضوں سمیت 5000 فلسطینی بیرون ملک علاج کے منتظر ہیں۔
ڈیڑھ ہزار ایسی خواتین غزہ میں بند ہیں جن کے شوہر غزہ سے باہر ہیں اور خطرہ ہے کہ رفح گذرگاہ کی بندش ان کی طلاق کا سبب بن سکتی ہے۔
سنہ 2015ء میں صرف 21 دن رفح گذرگاہ کھولی گئی۔
رواں سال کے پانچ ماہ میں اب تک صرف 5 دن گذرگاہ کھولی گئی
آخری بار صرف دو دن کے لیے گذرگاہ کھولی گئی اور دوران کل رجسٹرڈ افراد کی 2 فی صد تعداد 747 شہری سفر کر سکے۔ ان میں بھی 250مصری رابطہ کار تھے۔
یوں رفح گذرگاہ کی مسلسل بندش نے اہالیان غزہ کی مشکلات کو مزید گھمبیر کردیا ہے۔ فلسطینی پوچھتے ہیں کہ یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟
