غزہ کی وزارت صحت کے ملازمین نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی تنخواہیں ادا نہ کئے جانے کی صورت میں اپنے احتجاج کو اگلے مرحلے میں لے جائیں گے اور فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی تنخواہیں ادا کریں۔
ادویات اور ہیلتھ کئیر کی ٹریڈ یونینز نے غزہ میں وڈیو کانفرنس کے ذریعے حکومتی میٹنگ کے موقع پر منگل کے روز وزراء کونسل کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ فلسطینی متحدہ حکومت نے غزہ کے 4000 ملازمین کو تقسیم کے بعد بھرتی کئے جانے کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی سے انکار کردیا ہے۔غزہ کے موجودہ سٹاف کو اس وقت بھرتی کیا گیا تھا جب فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کے ملازمین نے اس وقت کی حماس حکومت پر دبائو بڑھانے کی خاطر کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔
ٹریڈ یونینز کے مظاہرین نے اس موقع پر بینرز اور نعرے بلند کرتے ہوئے متحدہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور غزہ کے ملازمین کے خلاف تعصب کی پالیسی کو ختم کردے۔
اس موقع پر یوین کے سربراہ عبدالکریم العتال نے نئی فلسطینی حکومت اور مفاہمتی معاہدے پر دستخط کرنے والی تمام پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ کے ملازمین کے حقوق کسی کے لئے مذاکرات کا بہانہ نہیں ہیں اور انہوں نے محمود عباس کو ان کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا پورا پورا ذمہ دار قرار دیا۔ العتال نےخبردار کیا ہے کہ اگر تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی گئی تو وہ احتجاج کو اگلے مرحلے پر لے جائینگے۔
