غزہ کی وزارت زراعت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں پیدا ہونے والے ‘ماحول اور صحت کے بحران’ کے اثرات اب انسانوں، جانوروں اور غزہ کی پٹی میں نباتات تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یہ بحران غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔
فلسطینی وزارت کے محکمہ ارضیات اور آباشی کے ڈائریکٹر نزار الوحیدی نے بتایا کہ زرعی اراضی پر اسرائیلی کی تیس روزہ جنگ کے دوران کی جانے والے بمباری سے ماحول اور صحت کا ایک بحران جنم لینے والا ہے جو شہریوں کی غذائی سلامتی اور بلواسطہ قتل کا ذمہ دار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرعی زمینوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل فلسطینیوں کی غذائی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ وہ زمین اور اس میں اگنے والی فصلوں کو خطرناک بمباری کے ذریعے زہر آلودہ بنا چکا ہے، یہ اقدام فلسطینیوں کے بالواسطہ قتل کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی تیس روزہ جنگ کے دوران برسائے گئے بموں اور میزائلوں کے انسانوں سمیت نباتات اور حیوانی حیات پر مضمر اثرات مرتب ہوں گے۔ ہر مرتبہ جان بوجھ کر زرعی اراضی کو نشانہ بنا کر اسرائیل نے اس کی پیدواری صلاحیت کمزور کر دی ہے اور یہاں پیدا ہونے والی سبزیوں میں ایسے جینز پیدا ہو رہے ہیں کہ جن کا انسانی اور حیوانی خوراک میں شامل ہونا انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے ‘اناضول’ کے مطابق جنگ کے بعد غزہ کی زرعی زمینوں میں سرطانی مواد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس بات کا ثبوت غزہ میں حمل کے ضیاع، بے ڈول بچوں کی پیدائش، سرطان کے مریضوں کی تعداد میں اضافے اور جانداروں کے جنین کے ضیاع کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
نزار نے مزید بتایا کہ ماضی کی دونوں جنگوں میں بڑی پیمانے پر مویشیوں کی اموات ہوئیں۔ جانوروں، پھلوں اور درختوں میں قابل توارث تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اب جبکہ حالیہ جنگ میں اسرائیل کی جانب استعمال کئے جانے والے اسلحے کے بارے میں خود انسانی حقوق کی تنظیمیں کہ چکی ہیں کہ اس میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ اسلحہ استعمال کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
