فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں۔
صہیونی ریاست کی جانب سے عائد اقتصادی اور معاشی پابندیوں کے باعث شہرکے اسپتالوں میں علاج معالجے میں مشکلات کا سامنا تو پہلے سے تھا مگر اب متعدی نوعیت کی خطرناک بیماریاں پھیلانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ وزارت صحت کے ایک عہدیدار ڈاکٹر مجدی ظہیر نے کہا کہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ملبے کو ہٹانے اور صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث خطرناک بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسپتالوں کے باہر رکھے گئے کوڑا دن کوڑا کرکٹ سے بھر چکے ہیں لیکن ان کے پاس شہر کی صحت و صفائی کے لیے اتنا عملہ نہیں ہے کہ وہ اسپتالوں کے قرب و جوار کے ماحول کو صاف و شفاف رکھ سکے۔
ڈاکٹرظہیر نے کہا کہ بیماریاں پھیلنے کا خطرہ صرف عام شہریوں تک محدود نہیں بلکہ اسپتالوں میں پہلے سے زیرعلاج مریضوں، ان کے ساتھ دیکھ بحال کے لیے آنے والے اقارب اور اسپتال کے عملے کے افراد بھی مہلک امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کے اسپتالوں میں بنیادی ضرورت کی ادویات کی سیکڑوں اقسام ناپید ہیں جس کے نتیجے میں مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں نے شہرکو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ ملبے اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگنے سے خطرناک امراض کا موجب بننے والے وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
