فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں ایک ماہی گیر اور ایک سترہ سالہ لڑکا زخمی ہوگئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہفتے کی شام صہیونی فوج نے غزہ کے ساحل پر فلسطینی کشتیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 53 سالہ ایک ماہی گیر زخمی ہوگیا۔ فائرنگ سے متعدد کشتیوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ کے ایک دوسرے واقعے میں وسطی غزہ میں نیو عبسان کے مقام پر ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکا زخمی ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق گولی فلسطینی لڑکے "ع ۔ ج” کے پیٹ میں لگی ہے جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں غزہ کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی میں فائر بندی قائم ہے لیکن قابض صہیونی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطینی ماہی گیروں کو غزہ کے سمندر میں پچاس کلو میٹر کے علاقے تک ماہی گیری کی اجازت دینے کا پابند ہے لیکن قابض فوج فلسطینیوں کو سمندر میں چھ کلو میٹر کے علاقے تک جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے اور انہیں فائرنگ کر کے شہید اور زخمی کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
