فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مصری حکام کے ساتھ اچھے تعلقات اور سیکیورٹی معاملات میں تعاون کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔
ھنیہ نے رفح کے دورے کے دوران یہ بات کہی ہے کہ ان کی حکومت نے نہ کبھی ماضی میں مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے مصری ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس کے خلاف اشتعال پھیلانے کی خاطر چلائی جانے والی مہم روک دیں۔
اس موقع پر فلسطینی وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنی جماعت [حماس] کی جانب سے جزیرہ نماء سیناء میں فلسطینیوں کی نو آبادکاری اور حماس کو سیناء بیچے جانے کی ڈیل کے وجود سے انکار کردیا۔
ایک مصری عمارت کو بم سے اڑانے کی فلسطینیوں کی کوششوں کے مصری میڈیا کے الزام پر بات کرتے ہوئے ھنیہ کا کہنا تھا کہ تمام فلسطینی جماعتوں نے اس معاملے کی سختی سے مذمت کی ہے۔
غزہ کے وزیراعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے مکینوں کی مصیبتوں اور آزمائشوں میں کمی کرنے کی خاطر رفح کراسنگ کھول دی جائے تاکہ سرحد پر پھنسے افراد اور سامان آسانی سے ایک طرف سے دوسری طرف جاسکیں۔
اس موقع پر وزارت داخلہ کے کراسنگز اور بارڈرز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ماہر ابو صبحہ نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا ہے کہ مصری حکام نے بدھ کے روز تین بسوں کو رفح کراسنگ سے گزرنے کی اجازت دے دی تھی۔
مصری حکام نے مصر ہونے والی واقعات اور سیناء میں جاری فوجی کارروائیوں کے سبب پچھلے چھ دنوں سے رفح کراسنگ بند کررکھی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
