مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس میں فلسطینی نیشنل پروگریسیو پارٹی کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ البرغوثی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ انہوں نے اجلاس کو غزہ کی پٹی میں اکاون روزہ جنگ کی تباہ کاریوں اور اسرائیلی درندگی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ایوان سے مطالبہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری فلسطینی قوم کے حقوق کے حوالے سے ٹال مٹول کے بجائے کھل کر فیصلے کرے اور اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرائے۔ اسرائیل کو آئینی اور قانونی حدود کا پابند کرے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صہیونی جنگی مجرموں کے خلاف عالمی عدالتوں میں قانونی کارروائی کا اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہے۔
اجلاس کے بعد برطانیہ میں فلسطین کلب کے چیئر مین زیاد العالول نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کا غزہ جنگ کے حوالے سے خصوصی اجلاس منعقد ہونا ایک تاریخی قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں مقیم 61 ہزار فلسطینی مندوبین نے پارلیمان کو مکتبو ارسال کیے تھے جن میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر فلسطین کی موجودہ صورت حال پر بحث کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 72 فی صد برطانوی عوام اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات چاہتے ہیں۔
زیاد العالول کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی جارحیت کے بعد برطانیہ میں فلسطینی عوام کی حمایت میں 20 سے 30 فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ اسرائیل کی حمایت میں 12 فی صد کمی آئی ہے۔ برطانیہ میں فلسطین کی آزادی کے لیے موثرآوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اسی طرح صہیونی ریاست کے عالمی عدالتوں میں ٹرائل کے مطالبات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یوں اسرائیل عالمی برادری میں جنگ ہار رہا ہے اور فلسطینی عوام جنگ جیت رہے ہیں۔
