عسکری ماہرین: مزاحمت کے خوف سے صہیونی جرنیل غزہ میں محتاط کارروائی چاہتے ہیں
ان کے مطابق یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر سفاک اسرائیلی جرنیل غزہ میں کسی تیز رفتار اور فیصلہ کن کارروائی کے بجائے ایک طویل اور محتاط فوجی آپریشن پر زور دے رہے ہیں۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی عسکری امور کے ماہر اور اسٹریٹیجک تجزیہ کار، نضال ابو زید نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی حقیقی صلاحیتوں اور طاقت کا درست اندازہ لگانے میں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر سفاک اسرائیلی جرنیل غزہ میں کسی تیز رفتار اور فیصلہ کن کارروائی کے بجائے ایک طویل اور محتاط فوجی آپریشن پر زور دے رہے ہیں۔
امریکی چینل سی این این کے مطابق ایک غاصب اسرائیلی فوجی اہلکار نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ فوج کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے مجاہدین کی اصل تعداد کتنی ہے اور وہ کن علاقوں میں کس حد تک پھیلے ہوئے ہیں۔
نضال ابو زید کا کہنا ہے کہ چونکہ قابض فوج مزاحمت کی حقیقی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اس لیے ظالم اسرائیلی جرنیل غزہ میں ایک محتاط اور طویل فوجی کارروائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کا فوجی نظام انسانی وسائل کی کمی اور مسلسل نقصان کا شکار ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے قابض اسرائیل بڑے پیمانے پر بھاری ہتھیاروں، شدید بمباری اور تباہ کن آگ کے استعمال کا سہارا لے رہا ہے۔
ابو زید نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی فوج انسانی وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے وہ توپ خانے، فضائی حملوں اور دھماکہ خیز روبوٹک آلات کے استعمال پر انحصار کر رہی ہے۔ یہی وہ کارروائیاں ہیں جو آج صبح سے غزہ کے کئی علاقوں میں جاری ہیں۔
الجزیرہ کے نامہ نگار کے مطابق قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے آج جبالیا البلد اور جبالیہ النزلہ پر شدید بمباری کی۔ الجزیرہ کو موصول ہونے والی خصوصی تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ قابض اسرائیل کے طیاروں نے شہری آبادیوں پر کئی راکٹ داغ کر آگ کے طویل شعلے بلند کیے۔