فلسطین کے شہر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی مسلط کردہ وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں گھر بار سے محروم ہونے والے سیکڑوں فلسطینی خاندانوں نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے پناہ گزین "اونروا” کےزیرانتظام اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے اور انہوں نے اسکول خالی کرنے سے انکار کردیا ہے، جس کے نتیجے میں کم سے کم چھ سو طلباء اپنی تدریسی سرگرمیوں کا آغاز نہیں کر پا رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے مگر شمالی غزہ میں بیت حانون میں تین اسکولوں پر بے گھر افراد کا قبضہ ہے اور انہوں نے مکانات کی تیاری یا متبادل محفوظ مقام فراہم کیے جانے تک اسکول چھوڑنے سے صاف انکار کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے "اونروا” کے ترجمان عدوان ابو الحسنہ نے میڈیا کو بتایا کہ پناہ گزینوں کی جانب سے اسکول خالی کرنے سے انکار کے بعد 600 طلباء و طالبات اسکول جانے اور اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔
