مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق پل کی افتتاحی تقریب وسطی غزہ میں گذشتہ روز صلاح الدین روڈ پر ہوئی جس میں فلسطینی وزیرآباد کاری مفید الحساینہ، اونروا کے ڈائریکٹر آپریشنز رابرٹ ٹیرنراور کئی دوسری حکومتی شخصیات شریک تھیں۔
اس موقع پر فلسطینی وزیرنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اور شمالی غزہ کو ایک پل کے ذریعے باہم مربوط کرنے کے اس پروجیکٹ میں اونروا اور خلیج تعاون کونسل کی جانب سے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہ پل کی تعمیر کے اس منصوبے کی تکمیل پر پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
مفید الحساینہ کا کہنا تھا کہ جنوبی اور شمالی غزہ کے درمیان پل کو ’’وادی غزہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پل کی تعمیر سے علاقے کے دونوں حصوں کے مکینوں اور سامان کی آمد و ترسیل میں سہولت پیدا ہوگی۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کے عہدیدار رابرٹ ٹیرنر نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ آج ہم غزہ کی پٹی میں ایک اہم ترین پل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ہم اس پل کو ایک سال کے اندر اندر پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے حوالے سے آنے والے تعمیراتی سامان میں رکاوٹ پیدا نہ کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
