• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home غزہ

اہل غزہ کی نظر میں حماس حکومت کی کامیابی کے سات سال

پیر 02-06-2014
in غزہ
0
plf 7 years
0
SHARES
0
VIEWS

سات سال تک غزہ کی پٹی میں برسر اقتدار رہنے والی جماعت حماس نے آخر کار قومی مفاہمت کی منزل بھی طے کرلی۔ سات سال تک غزہ میں حماس کی حکومت کو کئی سنگین نوعیت کے چیلنجز

کا سامنا رہا ہے، اسرائیلی ریاستی دہشت گردی،

معاشی محاصرے اور پڑوسی ملکوں کی جانب سے عائد پابندیوں کے باوجود غزہ کے عوام حماس کی حکومت پر اعتماد کرتے رہے۔ آج غزہ میں قومی عبوری قائم ہوچکی ہے اور یہ بحث بھی جاری ہے کہ حماس کی حکومت نے کون کون سے اہم اقدامات کیے جو ماضی کی کوئی حکومت نہیں کرسکی۔

مرکز اطلاعات فلسطین نے اہالیان غزہ کی آراء پر مشتمل ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں حماس کی سات سالہ حکومت کی کامیابیوں پر رائے دی گئی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ حماس کی حکومت کے بعض منفی پہلو بھی رہے ہیں لیکن حکومت کے اچھے اقدامات نے اس کے منفی پہلو بھی بے اثر ثابت کیے ہیں۔

غزہ کے ایک شہری محمود الیازجی نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حماس اور اس کی حکومت سے دلی ہمدردی ہے۔ حماس واحد جماعت نے جس نے تمام تر اندرونی اور بیرونی مسائل کے شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔ حماس کی یہ کامیابی کیا کم ہے کہ اس نے اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے باوجود سات سال تک پوری جرات کے ساتھ حکومت کی۔

حماس حکومت کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے محمود نے کہا کہ اگر حکومت کے اچھے اور نہایت کامیاب کاموں کی فہرست مرتب کی جائے تو وہ بہت زیادہ ہیں۔ لیکن میرے خیال میں سب سے بڑا کارنامہ اسرائیل کے ایک فوجی کے بدلے میں اپنے ایک ہزار پچاس قیدیوں کو صہیونی جیلوں سے رہائی دلوانا تھا۔ حماس کی اس خدمت پر صرف میں نہیں بلکہ پوری قوم بجا طورپر فخر کرتی رہے گی۔

ایک خاتون شہری نے اپنا پورا نام تو نہیں بتایا تاہم حماس کی حکومت کے سات سال کے بارے میں گفت و گو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس نے اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے باوجود سات سال تک کامیابی سے حکومت کی۔ غزہ کے عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ حماس کی پولیس بعض معاملات میں شہریوں پر ضرورت سے زیادہ سختی بھی کرتی رہی ہے۔

غزہ میں امن و امان کا قیام

غزہ کی 22 سالہ طالبہ میار احمد نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ حماس کی کئی دیگر کامیابیوں میں سے ایک اہم کامیابی غزہ کی پٹی میں امن و مان کا قیام اور جرائم پیشہ عناصر کے سرکوبی ہے۔ حماس نے غزہ کی پٹی میں مسلح تصادم کی راہ بند کی اور اسلحہ کے زور پر ایک دوسرے سے الجھنے والے گروپوں کو قابو میں رکھا ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی دشمن کے لیے جاسوسی اور ایجنٹ کا کام کرنے والوں سے بھی حماس کی حکومت آہنی ہاتھوں سے نمٹتی رہی جس کے نتیجے میں ماضی کی نسبت گذشتہ سات برسوں میں شہر میں امن قائم رہا۔

ایک سوال کے جواب میں میار احمد نے کہا کہ حماس نے کامیابی کے ساتھ غزہ میں حکومت کی اور سات سال بعد کامیابی کے ساتھ قومی مفاہمت کا عمل بھی آگے بڑھایا۔ قومی وحدت اور اتحاد کے سلسلے میں حماس کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حماس کا مصر کی اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کے ساتھ تعلق ثابت کرنے سے جماعت کی پوزیشن قدرے کمزور ہوئی ہے۔

انفراسٹرکچر تعمیرنو

غزہ کی پٹی میں حماس کے سات سالہ دور حکومت میں شہر میں امن و امان کے قیام کی بہتری کے بارے میں بہت سے شہریوں نے مثبت رائے کا اظہار کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امن و امان کے قیام میں حماس کی حکومت سے شہری مکمل طور پر مطمئن ہیں۔

غزہ کے ماہی گیر 56 سالہ سعید الصعیدی نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی حکومت نے جنگوں سے تباہ حال سڑکوں کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے اسرائیلی فوج روز مرہ کی بنیاد پر جارحیت مسلط کرتا رہا ہے۔ فلسطینی ماہی گیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج آج بھی ماہی گیروں اور دوسرے شہریوں کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے بتایا کہ دو روز پیشتر غزہ کے ساحل پر ماہی گیری کرتے ہوئے اسرائیلی بحریہ نے فلسطینیوں پر چھاپہ مارا اور ان کے موبائل فون ضبط کرلیے۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ اگر وہ تین میل سے آگے سمندر میں کشتی لے کر گئے تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔

حکومت اور مزاحمت ایک ساتھ

غزہ کی ایک بیس سالہ طالبہ لما عبدالھادی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں حماس اور اس کی حکومت کو الگ الگ نقطہ نظر سے دیکھتی ہوں۔ میرے خیال میں حماس کو بہ طور تنظیم حکومت سے الگ ہی رہنا چاہیے۔ سنہ 2006 ء سے قبل کوئی نہیں مانتا تھا کہ حماس بھی پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ جیت سکتی ہے، لیکن فلسطینی قوم نے حماس پر اعتماد کیا۔ اس اعتماد کی بنیادی وجہ حماس کی مسلح مزاحمت کی اصولی پالیسی تھی۔ فلسطینی قوم مزاحمت کی پالیسی کو ترک نہیں کرنا چاہتے اس لیے انہوں نے حماس کو کامیاب کرایا۔ غزہ کی پٹی میں حکومت کے قیام کے بعد حماس عوام کے اعتماد پر پورا اتری۔ اس نے حکومت کے ساتھ ساتھ قوم کے بنیادی حقوق کے لیے مسلح جد و جہد کی پالیسی جاری رکھی۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی طالبہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حماس کے خلاف دو مرتبہ جنگ مسلط کی۔ اگر حماس مزاحمت کی پالیسی ترک کرچکی ہوتی تو اس کی حکومت بھی چلی جاتی مگر حماس کے بہادر اور جانثار سپاہیوں نے صہیونی دشمن کی جارحیت کا پامردی سے مقابلہ کیا اور دشمن کو چاروں شانے چت کردیا۔

لما ھادی نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں اور حماس کے جوابی اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔ اس نے کہا کہ حماس نے اسرائیلی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی جرات پیدا کی۔ بعض مسلمان اور عرب ممالک بالخصوص ترکی اور قطر نے غزہ کے عوام کو بڑھ چڑھ کر امداد فراہم کی۔ اس پر یہ ملک بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.