اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بچوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم "سیو دی چلڈرن” کی سربراہ اینگر آشنگ نے دنیا کو جھنجھوڑ دینے والا انکشاف کیا کہ غزہ کے معصوم بچے بھوک اور قحط کی وجہ سے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ اب رونے تک کی طاقت ان میں باقی نہیں رہی۔
اینگر آشنگ نے واضح کیا کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کی گئی قحط کی کیفیت محض کوئی تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ہولناک حقیقت ہے۔ ان کے بقول جب کھانے کو کچھ نہ ملے تو بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو کر پہلے بے حال ہوتے ہیں اور پھر انتہائی اذیت ناک انداز میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی ہے قحط کا اصل مطلب۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت چند ہفتوں میں جسم کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے، جسم اپنی بقا کے لیے خود ہی اپنے پٹھے اور اندرونی اعضاء کو توڑنا شروع کر دیتا ہے اور پھر موت واقع ہو جاتی ہے۔
اینگر آشنگ نے مزید کہا کہ ہمارے علاج گاہوں میں موت کا سناٹا چھایا ہوا ہے۔ بچے اب بول سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں۔ وہ بس خاموشی سے پڑے رہتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتے ہیں۔ ان کے کمزور جسم بھوک اور بیماری کے بوجھ سے گھل کر ختم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کو قانونی اور اخلاقی طور پر براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ قابض اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جا رہے ان مظالم کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں۔
اسی اجلاس میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی نائب سربراہ جوائس مسویا نے کہا کہ یہ انسان ساختہ بحران ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے دنیا کو ایسے ردعمل دینا ہوگا جیسے یہ ہمارے اپنے بچے یا اہل خانہ زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ انہوں نے کچھ انسانی امداد کے داخل ہونے کا خیرمقدم کیا لیکن واضح کر دیا کہ یہ معمولی اضافہ بھوک اور قحط کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سلامتی کونسل کے 14 اراکین نے، امریکہ کو چھوڑ کر، غزہ میں قحط کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی انسانی قانون کے تحت بالکل ممنوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں قحط کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ نے 22 اگست کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ غزہ کے شمالی علاقے میں قحط پھیل چکا ہے جہاں شہر غزہ اور اس کے گرد و نواح شامل ہیں۔ یہ علاقہ پورے غزہ کا بیس فیصد بنتا ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ستمبر کے آخر تک یہ قحط دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق غزہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ فلسطینی ایسے ہیں جو "انتہائی ہلاکت خیز بھوک” کا سامنا کر رہے ہیں جو براہ راست قحط اور موت کے زمرے میں آتا ہے۔