مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیئرمین سام کوچیا نے فلسطینیوں سے عالمی یکجہتی کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں کئی سال سے جاری انسانی بحران میں کوئی کمی نہیں آئی اور فلسطین کا گنجان آباد شہر ابترانسانی صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔
تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، سلامتی کونسل کے چیئرمین گریفرنسزکوئینلن اور فلسطینی حقوق کمیٹی کے مندوب فوڈی سیک سمیت کئی عالمی شخصیات موجود تھیں۔
مسٹر کوئٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی سنگین بحران سے دوچار ہوا ہے۔ وہاں پر جنگ سے قبل بھی بے روزگاری اور غربت انتہا پر تھی جنگ کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس لیے میرا پرزور مطالبہ ہے کہ عالمی برادری غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے اسرائیل پردبائو ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ جاری رکھنے اور سامان اور شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیوں سے 17 لاکھ فلسطینی کسی نئے انسانی المیے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کا سلسلہ بھی معطل ہے اور یہ واضح نہیں ہو رہا کہ فریقین بات چیت کو کس سمت میں اور کب آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع کریں گے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ براہ راست مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے رابطے شروع کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
