اسرائیل کا معروف میزائل شکن پروگرام ’’آئرن ڈوم‘‘ ایک بار پھر فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ روکنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ صہیونی افواج کی جانب سے
غزہ سٹی کے جنوب مشرقی علاقے جحر الدیک میں پہلی مرتبہ نصب کیا گیا یہ فلسطینی مجاہدین کے راکٹ تباہ نہیں کرسکا۔
جحر الدیک کے مقامی شہریوں نے بتایا کہ منگل کی شام علاقے میں نصب آئرن ڈوم نامی سسٹم سے تجرباتی طور پر اس سسٹم سے دو میزائل داغے گئے جن کا مقصد مزاحمت کاروں کے راکٹ تباہ کرنا تھا مگر یہ میزائل اپنا مقصد پورا کرنے میں ناکام رہے۔ خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ نے اہل علاقہ کے حوالے سے بتایا کہ سسٹم کے میزائل فضا میں ان کے سروں پر پھٹ گئے اور ان کی آواز دور تک سنائی دی گئی۔ مقامی افراد نے بتایا کہ اس تجربے کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے گراڈ طرز کے چار راکٹ مقبوضہ فلسطین پر برسائے گئے مگر اس سسٹم نے ان راکٹوں کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی اور سسٹم نے ان چار راکٹوں کو تباہ کرنے کے لیے ایک میزائل بھی نہیں داغا۔
صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا کہ غزہ کی پٹی سے نقب کی یہودی بستی ’’نٹیفوٹ‘‘ پر چار گراڈ راکٹ برسائے گئے تھے جن کو روکنے میں ’’آئرن ڈوم‘‘ سسٹم ناکام ہو گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مزاحمت کاروں کے چار راکٹوں میں سے صرف دو کو تباہ کیا جا چکا جبکہ دو راکٹ غیر گنجان مقام پر گرے جس سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم اہل علاقہ نے صہیونی ذرائع کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی میزائل شکن سسٹم مکمل طور پر نکام ہوا ہے اور اس نے برسائے گئے چاروں میں سے کسی ایک راکٹ کو بھی تباہ نہیں کیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
