عینی شاہدین نے بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب یہودی فوجیوں نے خان یونس میں زرعی اراضی اور کھیتوں میں گولے برسائے اور رات بھر روشنی پیدا کرنے والے گولے فضاء میں چھوڑے جاتے رہے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ خان یونس میں اسرائیلی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ آخری اطلاعات تک گولہ باری جاری تھی جس کے نتیجے میں شہریوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوجی ’’برکہ السریج‘‘ کے مقام سے جنوب مشرقی غزہ میں بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے ساتھ داخل ہوئے اور محدود دراندازی کے بعد واپس چلے گئے۔ تاہم فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اگست میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان اکاون روزہ جنگ کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا تاہم صہیونی فوج جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
