اسرائیلی فوج ایک اعلی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ اگر ان کی پیادہ اور آرمڈ انفرنٹری کو اسرائیلی فضائیہ کے ایف سولہ، ایف پندرہ طیاروں سمیت ہیل فائر میزائلوں سے لیس جاسوسی طیاروں کا کور حاصل نہ ہوتا تو وہ غزہ میں ایک ملی میٹر تک بھی اندر آنے کی جرات نہ کرتے۔
اسرائیل میں گرما گرما خبروں کی اشاعت کے لئے مشہور متعدد ویب پورٹلز نے اسرائیلی فوجی افسر کا یہ بیان جلی سرخیوں میں شائع کیا ہے کہ پیادہ اسرائیلی فوج کے غزہ میں داخلے سے ایف سولہ اور ایف پندرہ طیاروں نے ایک سے ڈیڑھ ٹن وزنی بم گرا کر غزہ کی عمارتیں تباہ کیں یہ عمارتیں اسرائیل۔غزہ سرحد پر واقع تھیں، اس کے بعد صہیونی فضائیہ نے مختلف طرز کے لڑاکا طیاروں کی مدد سے علاقے میں 250 کلوگرام وزنی بم گرائے۔
اسی فوجی اہلکار کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر بمباری کے بعد بھی پیدل فوج کے سورماوں نے اس خوف سے غزہ کے علاقے میں پیش قدمی نہیں کہ کیونکہ انہیں خوف تھا کہ کسی زیر زمین سرنگ سے کوئی قسامی مجاہد نکل کر انہیں جہنم واصل نہ کر دے۔ دس دن کی فضائی بمباری کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کی جانب پیش قدمی کا حوصلہ ہوا۔
اسی اسرائیلی فوجی کے مطابق زمینی کارروائی کی سست روی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹینک تین میٹر کا فاصلہ تین تین گھنٹوں میں طے کرتے کیونکہ انہیں مسلح فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے بچھائی جانے والی سرنگوں کی موجودگی کا خوف دامن گیر تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں فضائی مدد حاصل نہ ہوتی تو غزہ سے ہمارا ایک بھی فوجی زندہ سلامت واپس نہ آتا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
