اسرائیل کے عبرانی نیوز ویب پورٹل "وللا” نے اپنی رپورٹ میں صہیونی عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ اور یہودی کالونیوں کے درمیان سرحد پر باڑی کی تعمیر و مرمت کا کام جاری ہے اور کئی مقامات پر باڑ اکھاڑی گئی ہے جس کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کا سرحد عبور کر کے یہودی کالونیوں میں داخل ہونا بہت حد تک ممکن ہو گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باڑ کی تعمیر میں مزید کئی ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے کیونکہ باڑ کی تعمیر کے لیے ٹھیکیدار کمپنیوں اور فوج کے درمیان معاملات طے نہیں پائے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرحد پر بنائی جانے والی باڑ کے قریب مختلف مقامات پر فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔ دیوار کی تعمیر کے لیے کچھ حصے پرکام جاری ہے اور وہاں پرکام کرنے والی فرموں نے بھی سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث سرحد عبور کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
سرحد پر الیکٹرانک باڑ کی تعمیر میں مصروف ایک عہدیدار نے بتایا کہ پہلے سے بنائی گئی باڑ توڑنے کے بعد سرحد کھل چکی ہے اور دو طرفہ آمد و رفت کی راہ میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی ہے۔ لہذا فوج ان تمام علاقوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کرے جہاں سے فلسطینی مزاحمت کاروں کی دراندازی کا خطرہ موجود ہے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی دستے ٹینکوں اور بکتر بندگاڑیوں کے ساتھ سرحد پر مسلسل گشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
