فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں حماس پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی خواہشات کی تکمیل کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے، فلسطینی ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں فلسطینیوں کے حقوق کے لئے برسرپیکار اسلامی مزاحمتی تحریک حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول ختم کرے۔
ایوان صدر نے کہا کہ حماس کو غزہ کے عوام کے مطالبات کا جواب دینا چاہیے، جن میں غزہ سے اپنا کنٹرول ختم کرنا بھی شامل ہے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حماس کو غیر ملکی ایجنڈوں پر انحصار ختم کرکے فلسطینی عوام کے بہترین مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی فلسطینی ایوان صدر نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس اعلان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے رفح اور خان یونس کو الگ کرنے اور جنوبی غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے کے لیے "موراگ محور” کے قیام کی بات کی تھی۔ فلسطینی ایوان صدر نے اس اعلان کو اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر قبضے کو برقرار رکھنے اور اسے تقسیم کرنے کی کوششوں کا ایک واضح اشارہ قرار دیا۔ ایوان صدر نے کہا کہ "یہ اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو غزہ کی پٹی کو 1967 کے بعد فلسطینی سرزمین کا حصہ مانتا ہے۔”
فلسطینی ایوان صدر نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ غزہ، مغربی کنارے اور یروشلم میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری طور پر مداخلت کرے۔ ایوان صدر نے کہا کہ فلسطینی ریاست غزہ میں تعمیر نو کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور اپنے عوام کی بحالی کے لیے اپنی تمام تر ذمہ داریاں ادا کرے گی۔
اس بیان میں فلسطینی ایوان صدر نے بین الاقوامی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس خاموشی نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کے ارتکاب میں مزید حوصلہ دیا ہے۔ ایوان صدر نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو بین الاقوامی قانونی جواز کے سامنے سرتسلیم خم کرائے اور اس کی جارحیت اور جرائم کا خاتمہ کرے۔
فلسطینی ایوان صدر کا یہ مطالبہ فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع کے بجائے غیر قانونی صیہونی ریاست کے مفادات کی تکمیل کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینی ایوان صدر اسرائیل کے ایجنڈے کے مطابق فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف کام کر رہا ہے۔