(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی زخمیوں کی تعداد میں روزانہ تین گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر اس وقت سے دیکھا گیا ہے جب سے قابض اسرائیل اور امریکہ کے تعاون سے قائم کردہ نام نہاد غزہ ہیومنٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن کے مراکز کے ذریعے امداد کی تقسیم کا عمل شروع ہوا ہے۔
غزہ میں تنظیم کے نائب طبی رابطہ کار، محمد ابو مغیصب نے بتایا کہ جنگ سے قبل بھی غزہ کا صحت کا نظام انتہائی کمزور تھا لیکن اب اس کا صرف ایک کھوکھلا ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے جو بمشکل کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کی حمایت سے قائم کیے گئے یہ امدادی مراکز درحقیقت خوراک کی تقسیم کے بہانے قتل گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان مقامات سے روزانہ لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
ابو مغیصب کے مطابق زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی لاشیں لائی جاتی ہیں جن کے اعضاء کٹے ہوئے ہوتے ہیں، ہڈیاں چکنا چور ہو چکی ہوتی ہیں، اور شدید انفیکشن اور پھٹی ہوئی شریانوں کے باعث انہیں فوری سرجری اور انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کی ضرورت ہوتی ہے لیکن غزہ کے تباہ حال صحت کے نظام میں یہ سہولیات عملی طور پر ناپید ہو چکی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے باقی ماندہ ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز اور آئی سی یو کی سہولیات مسلسل ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر اس نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ ہسپتال بچیں گے، نہ مریض اور نہ ہی کوئی مستقبل۔