(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کے خلاف امریکی ویٹو کو شدید الفاظ میں مسترد کردیا ہے۔ حماس نے اس اقدام کو قابض اسرائیلی ریاست کی مجرمانہ حمایت اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
بدھ کی شام کو دیے گئے ایک بیان میں حماس نے واضح کیا کہ امریکہ کا ویٹو استعمال کرنا واشنگٹن کی قابض صہیونی حکومت کے لیے اندھی اور مکمل طرفداری کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ یہ محض سفارتی عمل نہیں، بلکہ غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم کی براہِ راست پشت پناہی ہے۔بیان کے مطابق، امریکہ کا یہ فیصلہ جنگی جرائم کے مرتکب بنجمن نیتن یاھو کے لیے ایک واضح اجازت نامہ ہے کہ وہ نہتے فلسطینی شہریوں پر اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھے، ان کا خون بہاتا رہے، جبکہ دنیا بے بسی سے یہ تماشا دیکھتی رہے۔
حماس نے اس بات پر گہرے رنج و غم اور شدید غصے کا اظہار کیا کہ امریکہ نے نہ صرف عالمی ضمیر کی آواز کو دبایا بلکہ عالمی برادری کی متفقہ خواہش کو بھی ٹھکرا دیا۔ سلامتی کونسل کےپندرہ ارکان میں سے چودہ نے جنگ بندی کی حمایت کی، مگر امریکہ کی تنہاء مخالفت نے اس قرارداد کو ناکام بنا دیا، جو عالمی انصاف اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی یہ ناکامی ثابت کرتی ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور اصول محض نمائشی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی بغیر روک ٹوک جاری ہے اور عالمی ادارے قابض صہیونی ریاست اسرائیل کے سامنے مکمل طور پر بے اختیار نظر آتے ہیں۔حماس نے دنیا بھر کے انصاف پسند ممالک، تنظیموں اور بیدار ضمیر افراد سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اخلاقی اور سیاسی سطح پر حرکت میں آئیں، اس کھلے ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور فلسطینیوں پر مسلط کردہ نسل کشی کی اس جنگ کو روکنے کے لیے اپنا دباؤ بڑھائیں۔
دریں اثناء، فلسطین کی ایک اور مزاحمتی تنظیم ”عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین” نے بھی امریکی اقدام کو جنگی جرائم میں کھلی شرکت قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ نہ صرف قابض صہیونی ریاست کی پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ اس کی جنگی جارحیت میں عملی طور پر شریک ہے۔یاد رہے کہ امریکی ویٹو کے باعث سلامتی کونسل غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی۔
اس قرارداد میں فوری جنگ بندی کا نفاذ اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فوری ترسیل کا مطالبہ شامل تھا۔قابض صہیونی ریاست امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پر نسل کشی کی ایک ہولناک مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس دوران ایک لاکھ اناسی ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ گیارہ ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ لاکھوں فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔