(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست کے وزیر اعظم، بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات میں "یقینی پیش رفت” ہوئی ہے۔ تاہم، یہ بیان صرف عالمی دباؤ کو کم کرنے اور جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔
نیتن یاہو نے صیہونی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں خطاب کے دوران کہا کہ غزہ سے قیدیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں پر جاری نسل کشی اور تباہ کن بمباری کسی قسم کے امن مذاکرات کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل رہے ہیں”۔ یہ بیان فلسطینی عوام کے حقوق کو پامال کرنے اور غزہ پر جنگ مسلط کرنے کے لیے صیہونی ریاست کی جارحیت کو واضح کرتا ہے۔ نیتن یاہو نے ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے عزائم کو بھی دہراتے ہوئے اپنی سامراجی پالیسیوں کا دفاع کیا۔
دوسری طرف، غیر قانونی صیہونی ریاست کے 800 فوجیوں کے رشتہ داروں نے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ جنگ نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ خود صیہونی ریاست کے شہریوں کے لیے بھی بے مقصد اور تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ پر غیر قانونی صیہونی ریاست کے مظالم، جن میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا، عمارتیں تباہ کرنا اور معصوم فلسطینی بچوں کو شہید کرنا شامل ہے، کسی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حماس کے ساتھ معاہدے کی کوششوں کو امریکہ میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری تک ملتوی کیا جا سکتا ہے، تاکہ صیہونی ریاست اپنے مفادات کے مطابق مزید وقت حاصل کر سکے۔
غزہ میں جاری بربریت عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے صیہونی ریاست کو
جوابدہ بنائے۔