فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں عینی شاہدین نے فضاء میں غبارہ نما جاسوس طیاروں کی پروازوں کا پتہ چلایا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جاسوس طیارے ماضی میں فضاء میں محو پروازنہیں دیکھے گئے۔
جاسوس طیاروں کی موجودگی سے شہریوں میں سخت خوف و ہراس بھی پایا جاتا ہے۔
غزہ میں ایک فیلڈ آبزوریٹرنے’’قدس پریس‘‘ کو بتایا کہ بدھ کے روز جنوب مشرقی غزہ میں حجر الدیک کی فضاء میں ایک فوجی غبارہ نما جاسوس طیارہ دیر تک محو پرواز رہا۔ یہ جاسوس طیارہ غزہ کی پٹی کی فضاء میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ اس جاسوس طیارے نے حجر الدیک اور اس کے آس پاس کے مقامات پر فضاء میں کئی چکر کاٹے۔ خیال رہے کہ دو روز قبل حجر الدیک ہی کے مقام سے فلسطینی مزاحمت کاروں نے صہیونی تنصیبات پر راکٹ حملے کیے تھے۔
کچھ دیگر عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوج کے اس جاسوس طیارے کو انہوں نے بھی دیکھا جس کی پرواز سے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ مخصوص مقامات کی مختلف زاویوں سے تصاویر لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ فضاء میں پرواز کے دوران جاسوس طیارے کی حرکت سے یہ بھی شبہ ہوا کہ یہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی نقل وحرکت کی نگرانی کر رہا ہے۔ حجر الدیک ہی کے قریب غزہ کی مشرقی سرحد پر اسرائیلی فوج کے دو کیمپ بھی قائم ہیں۔ جہاں سے اکثر صہیونی فوج کے پیادہ دستے غزہ کی پٹی میں دراندازی کرتے رہتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حجر الدیک کی فضاء میں غبارہ نما جاسوس طیارہ چھوڑ کر صہیونی فوج نے خود ہی یہ ثابت کیا ہے کہ علاقے پراس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے مسلسل جاسوس طیاروں کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
