(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں حکومتی میڈیا آفس نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل نے خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس پر جان بوجھ کرشدید بمباری کی جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں، صحافیوں اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں سمیت بائیس شہری شہید اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ قابض اسرائیل نے اس وحشیانہ حملے کو جواز فراہم کرنے کے لیے بعد میں ایک جھوٹی کہانی گھڑی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ ایک مزاحمتی کیمرے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کیمرہ رائٹرز نیوز ایجنسی کے فوٹو جرنلسٹ حسام المصری کا تھا جو پہلی بمباری میں ہی شہید ہو گئے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دوسری بمباری میں براہِ راست ریسکیو ٹیموں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا جسے بین الاقوامی سطح پر "ڈبل اسٹرائیک”کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ممنوعہ حکمت عملی ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ شہری نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ قابض اسرائیل نے شہداء کی شناخت میں بھی جعلسازی کی اور چھ شہداء کو تخریب کار قرار دے کر اپنی فہرست میں شامل کیا، حالانکہ ان میں سے کچھ شہداء دیگر مقامات پر یا مختلف اوقات میں پہلے ہی شہید ہو چکے تھے۔ جبکہ باقی تمام شہداء واضح طور پر شہری، طبی، امدادی اور صحافتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کارکن تھے۔
میڈیا آفس نے زور دے کر کہا کہ یہ جرم جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریحً خلاف ورزی ہے اور اسے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جانا چاہیے۔
بیان میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے اپیل کی گئی کہ وہ اس واقعے کی دستاویزات تیار کریں اور ذمہ داروں کو سزا دلوائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ساتھ اکتوبر 2023 سے قابض اسرائیل، امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت کے ساتھ، غزہ میں ایک تباہ کن جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو لاکھ اکیس ہزار فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔