(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) عبرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے قطری-مصری تجویز کے ردعمل میں ایک متبادل تجویز پیش کی ہے، جسے حماس نے مثبت انداز میں دیکھتے ہوئے قبول کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی تجویز کے مطابق، وہ اپنے قیدیوں میں سے نصف، زندہ اور مردہ، کو رہا کرنے کے بدلے 50 دن کی جنگ بندی پر راضی ہوگی۔
عبرانی چینل 13 کے مطابق، نیتن یاہو حکومت نے یہ تجویز اس وقت پیش کی جب ثالثوں کی پیش کردہ تجویز، جس میں صرف 5 قیدیوں کی رہائی شامل تھی، کو مسترد کر دیا گیا۔ ان پانچ قیدیوں میں امریکی شہریت رکھنے والا اسرائیلی فوجی عیدان الیگزینڈر بھی شامل تھا، جسے ایک فوجی اڈے سے قیدی بنایا گیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ حماس کے رہنما غزہ چھوڑ دیں، اپنے ہتھیار حوالے کریں، اور غزہ پر مکمل قبضہ قائم کیا جائے، تاکہ ٹرمپ کے جبری ہجرت کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن، باسم نعیم، نے کہا کہ تحریک نے ثالثوں کی تجویز پر قومی ذمہ داری کے تحت لچکدار موقف اختیار کیا، مگر نیتن یاہو پوری ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کر رہا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ ہمارے عوام کے خلاف فاشسٹ خواب دیکھ رہا ہے، جن میں جبری ہجرت، مزاحمت کا خاتمہ، اور اسلحے کی ضبطی جیسے مذموم منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس 19 جنوری کو طے پانے والے معاہدے اور ثالثوں کی تازہ ترین تجویز پر قائم ہے، تاکہ بحران سے نکلا جا سکے۔
باسم نعیم نے مزید کہا کہ نیتن یاہو اور اس کی حکومت نے مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت کے باوجود مہینوں کی جارحیت میں جو حاصل نہیں کر سکے، وہ اب بھی نہیں کر سکیں گے، چاہے وہ اپنے قیدیوں کا معاملہ مذاکرات میں استعمال کریں یا طاقت کا بے دریغ استعمال کریں۔ ہمارے عوام کا اپنی سرزمین پر باقی رہنا محض ایک سرخ لکیر نہیں، بلکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت اور اس کا اسلحہ ہمارے لیے ایک وجودی مسئلہ ہے، خاص طور پر ایسے دشمن کے خلاف جو صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ نیتن یاہو اور اس کی حکومت ناکام ہوں گے، لیکن وہ پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
آخر میں، انہوں نے کہا کہ ہم ثالثوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ دشمن پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے۔ اگر امریکہ واقعی خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے تو اسے اس جارحیت کی حمایت ختم کرنی ہوگی۔