• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 28 اگست 2025
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home بریکنگ نیوز

اقوام متحدہ کا انکشاف: غزہ کے بچے بھوک کے باعث بتدریج موت کے قریب پہنچ رہے ہیں

اینگر آشنگ نے واضح کیا کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کی گئی قحط کی کیفیت محض کوئی تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ہولناک حقیقت ہے۔

جمعرات 28-08-2025
in بریکنگ نیوز, خاص خبریں, رپورٹس, عالمی خبریں, غزہ, فلسطین
0
ایمنسٹی: قابض اسرائیل غزہ میں قحط زدہ فلسطینیوں کو جان بوجھ کر شہید کر رہا ہے
0
SHARES
0
VIEWS

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بچوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم "سیو دی چلڈرن” کی سربراہ اینگر آشنگ نے دنیا کو جھنجھوڑ دینے والا انکشاف کیا کہ غزہ کے معصوم بچے بھوک اور قحط کی وجہ سے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ اب رونے تک کی طاقت ان میں باقی نہیں رہی۔

اینگر آشنگ نے واضح کیا کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کی گئی قحط کی کیفیت محض کوئی تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ہولناک حقیقت ہے۔ ان کے بقول جب کھانے کو کچھ نہ ملے تو بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو کر پہلے بے حال ہوتے ہیں اور پھر انتہائی اذیت ناک انداز میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی ہے قحط کا اصل مطلب۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت چند ہفتوں میں جسم کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے، جسم اپنی بقا کے لیے خود ہی اپنے پٹھے اور اندرونی اعضاء کو توڑنا شروع کر دیتا ہے اور پھر موت واقع ہو جاتی ہے۔

اینگر آشنگ نے مزید کہا کہ ہمارے علاج گاہوں میں موت کا سناٹا چھایا ہوا ہے۔ بچے اب بول سکتے ہیں نہ رو سکتے ہیں۔ وہ بس خاموشی سے پڑے رہتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتے ہیں۔ ان کے کمزور جسم بھوک اور بیماری کے بوجھ سے گھل کر ختم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کو قانونی اور اخلاقی طور پر براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ قابض اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جا رہے ان مظالم کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں۔

اسی اجلاس میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی نائب سربراہ جوائس مسویا نے کہا کہ یہ انسان ساختہ بحران ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے دنیا کو ایسے ردعمل دینا ہوگا جیسے یہ ہمارے اپنے بچے یا اہل خانہ زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ انہوں نے کچھ انسانی امداد کے داخل ہونے کا خیرمقدم کیا لیکن واضح کر دیا کہ یہ معمولی اضافہ بھوک اور قحط کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سلامتی کونسل کے 14 اراکین نے، امریکہ کو چھوڑ کر، غزہ میں قحط کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی انسانی قانون کے تحت بالکل ممنوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں قحط کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ نے 22 اگست کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ غزہ کے شمالی علاقے میں قحط پھیل چکا ہے جہاں شہر غزہ اور اس کے گرد و نواح شامل ہیں۔ یہ علاقہ پورے غزہ کا بیس فیصد بنتا ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ستمبر کے آخر تک یہ قحط دیر البلح اور خان یونس تک پھیل سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق غزہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ فلسطینی ایسے ہیں جو "انتہائی ہلاکت خیز بھوک” کا سامنا کر رہے ہیں جو براہ راست قحط اور موت کے زمرے میں آتا ہے۔

Tags: اقوام متحدہصہیونی فوجصیہونی ریاستغزہفلسطینفلسطینی
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.