(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں سنہ 2007 ء سے 2015 ء تک اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی حکومت کے دور میں بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین نے کہا ہے کہ قومی مفاہمت کی آڑ میں وہ اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اجازت نہیں دیں گے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ ملازمین یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینی سیاسی جماعتوں بالخصوص حماس اور تحریک فتح کے مابین مفاہمتی مساعی کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر مفاہمت کی آڑ میں ملازمین کے حقوق پرڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔لیبر یونین کے سربراہ محمد صیام نے غزہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام فریقین کو انتباہی پیغامات ارسال کیے ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھائیں مگر غزہ کے ملازمین کی مراعات میں کمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی مفاہمت کے حوالے سے اہم مشکل ملازمین کی مراعات کو یقینی بنانا ہے۔ ہم غزہ کی پٹی میں پچھلی حکومت کے دوران کسی ملازم کو بے دخل کرنے یا ان کی مراعات میں کمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خیال رہے کہ فلسطین میں دو بڑی سیاسی جماعتوں حماس اور تحریک فتح کی قیادت کے درمیان مفاہمت کے لیے بات چیت جاری ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی کوشش ہے کہ مفاہمت کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے دور میں بھرتی ہونے والے تمام سرکاری ملازمین کو فارغ کردیا جائے تاہم حماس ملازمین کے حقوق پردستبردار ہونے پر تیار نہیں۔
