فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیلی فوج کی 2 ماہ تک جاری رہنے والی ریاستی دہشت گردی کے رد عمل میں صہیونی فوج کو بھی کبھی نہ بھولنے والا سبق ملا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مشرقی غزہ کے علاقے الشجاعیہ میں صہیونی فوج کے ایک زمینی آپریشن کے نتیجے میں جہاں کئی اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے وہیں 12 بریگیڈ کی کمانڈو یونیٹ "گولانی” کا کمانڈر جنرل "شائی سیمان توف” جسمانی طور پر مکمل معذور ہو گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنرل سیمان توف تل ابیب کے "شیبا” اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس اس کا دھڑ ناکارہ ہو چکا ہے۔ الشجاعیہ پر حملے کے وقت جنرل سیمان ایک مکان میں گھسا تو اچانک مکان کی دیوار اس پر گر پڑی تھی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔
اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسپتال میں جنگ میں اپاہج ہونے والے جنرل سیمن کی سالگرہ منائی گئی۔ اسپتال کے پارک میں منعقدہ تقریب میں جنرل سیمن کو ایک وہیل چیئر پر لایا گیا۔ جنرل سیمان زندہ ضرور ہے مگر اس کی ریڑھ کی ہڈی اور گردن ٹوٹ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ خود سے حرکت نہیں کر سکتا۔
قبل ازیں فوج کے مقرب سمجھے جانے والے "وللا” عبرانی نیوز ویب پورٹل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ الشجاعیہ کالونی میں اسرائیلی فوج نے 22 جولائی کو آپریشن شروع کیا لیکن یہ آپریشن فوج کے لیے نہایت تباہ کن رہا ہے، کیونکہ جنگ کے دوران گولانی یونٹ کا ایک اہم جنرل گسان علیان زخمی ہوا، جس کے بعد جنرل سیمان توف نے کمان سنبھالی اور وہ بھی ایک دیوار تلے دب کر شدید زخمی ہو گیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنرل سیمان توف تل ابیب کے "شیبا” اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس اس کا دھڑ ناکارہ ہو چکا ہے۔ الشجاعیہ پر حملے کے وقت جنرل سیمان ایک مکان میں گھسا تو اچانک مکان کی دیوار اس پر گر پڑی تھی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔
اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسپتال میں جنگ میں اپاہج ہونے والے جنرل سیمن کی سالگرہ منائی گئی۔ اسپتال کے پارک میں منعقدہ تقریب میں جنرل سیمن کو ایک وہیل چیئر پر لایا گیا۔ جنرل سیمان زندہ ضرور ہے مگر اس کی ریڑھ کی ہڈی اور گردن ٹوٹ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ خود سے حرکت نہیں کر سکتا۔
قبل ازیں فوج کے مقرب سمجھے جانے والے "وللا” عبرانی نیوز ویب پورٹل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ الشجاعیہ کالونی میں اسرائیلی فوج نے 22 جولائی کو آپریشن شروع کیا لیکن یہ آپریشن فوج کے لیے نہایت تباہ کن رہا ہے، کیونکہ جنگ کے دوران گولانی یونٹ کا ایک اہم جنرل گسان علیان زخمی ہوا، جس کے بعد جنرل سیمان توف نے کمان سنبھالی اور وہ بھی ایک دیوار تلے دب کر شدید زخمی ہو گیا تھا۔
اس کے بعد گولانی یونٹ 2 گھنٹے تک کسی فوجی کمانڈر کے بغیر ہی جنگ لڑتی رہی۔ معرکے میں آپریشن میں حصہ لینے والے گولانی یونٹ کے نصف سے زیادہ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
