مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قاہرہ میں ہوئے عرب لیگ کے وزراء خارجہ سطح کے اجلاس کے آخر میں جاری اعلامیے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے منظم ریاستی مظالم کی مذمت کی گئی۔ اعلامیے میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کے قیام کے لیے عالمی انصاف انصاف میں قانونی چارہ جوئی کی مکمل حمایت کی گئی۔ عرب لیگ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو مبصر رکن کا درجہ ملنے کے بعد فلسطینی باضابطہ فلسطینی ریاست کی بھی منظوری دی جائے اور تمام عالمی اداروں میں فلسطینی ریاست کو شمولیت کا حق فراہم کیا جائے۔
عرب لیگ نے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی ممالک کے بلاک اور غیر جانب دار گروپ سے مل کر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کو کونسل کے انسانی حقوق کے ایجنڈے میں شامل کرے تاکہ صہیونی ریاست کے جرائم کو بے نقاب کیا جاسکے۔
اعلامیے میں فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیل کی توسیع پسندی کو غیرقانونی قرار دے کر اس پرپابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عالمی برادری فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی توسیع پسندی پر صہیونی حکومت کا احتساب کرے۔
عرب لیگ نے بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ بیت المقدس کو ہرصورت میں خود مختار فلسطینی مملکت کا دارالحکومت قرار دینا چاہیے اور اس میں بسنے والے تمام ادیان کے پیروکاورں کی مذہبی آزادی کا تحفظ یقینی بنایاجائے۔
اجلاس میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے مکانات کی مسمار اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی بھی شدید مذمت کی گئی اور اسے صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا حصہ قرار دیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
