اسرائیلی فوج کے ایک سینیئر عہدیدار نے اپنی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کے خطرے کے مستقل خاتمے کے لیے بار بار جنگ مسلط کرنے کے بجائے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف جنگ ہی مسئلے کا حل نہیں ہے اگر ہوتی تو آج تک کئی جنگیں ہو چکی ہیں لیکن فلسطینی مزاحمت کاروں کا خطرہ ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی کمانڈ سے وابستہ جنرل رونین مورالی نے جو حالیہ غزہ جنگ کے ماسٹر مائنڈز میں شامل تھے کا کہنا ہے کہ سیاسی بات چیت کے ذریعے غزہ کی پٹی سے درپیش خطرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی پٹی پر 51 روز تک جاری رہنے والی بمباری کے بعد حماس کی جنگی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے اور حماس اور دیگر جنگجو زیادہ جلدی سرنگیں اور زمین دوز بنکر نہیں کھود سکیں گے۔
جنرل مورالی کا کہنا تھا کہ ان دنوں حماس اپنے مارے جانے والے ساتھیوں کے کھوئے ہوئے اسلحہ کی تلاش میں ہے۔ صہیونی فوجی افسرنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں "حفاظتی کنارا” کے نام سے جو آپریشن کیا گیا ہے اس نے دشمن کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم اپنےدفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا بھرپور مظاہرہ کرنے میں کسی تامل سے کام نہیں لیتے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بمباری کے باوجود غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے اسلحہ کے ذخائر بالخصوص میزائل ختم نہیں کیے جا سکے ہیں اور غزہ میں اب تھی ایک تہائی میزائل ذخیرہ موجود ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
