مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سوئس حکومت کے وفد نے فلسطینی اتھارٹی کے ہاں متیعن سفیر پال گارنیر کی قیادت میں فلسطینی تنظیموں کے رہ نمائوں سے ملاقات کی۔ سوئس حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سابقہ حکومت کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ حل کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں سوئس حکومت کی وزارت خارجہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے شعبے کے سربراہ رونالڈ چینیقر بھی موجود تھے۔
اس موقع پر فلسطینی قیادت نے مہمان وفد کو غزہ کی پٹی کی مجموعی صورت حال کے بارے میں تفصیلی باریفنگ دی اور انہیں غزہ کی پٹی میں سابق حکومت کے دور میں بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائی کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
سوئس وفد نے فلسطینی تنظیموں کا موقف سننے کے بعد ایک دستاویز تیار کی ہے جسے ’’سوئس دستاویز‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں غزہ کی پٹی میں حماس کی سابقہ حکومت کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی نتخواہوں کی ادائی کا روڈ میپ بتایا گیا ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سوئس عہدیدار رولنڈ چینیقر نے کہا کہ وہ نیک نیتی کے جذبت کے تحت یہاں آئے ہیں۔ ہمارے تیار کردہ فارمولے کو سوئس فارمولے کے بجائے فلسطینی فارمولہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں سابقہ حکومت کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی بنک، UNDP ، عالمی بنک، یورپی یونین، امریکا اور یونیسکو کی منظوری کے بعد رقوم جاری کی جائیں گی جو سابقہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر صرف کی جائےگی۔
خیال رہے کہ سنہ 2007 ء میں غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے قیام کے بعد سے پچھلے سال اپریل تک غزہ کی پٹی میں بھرتی ہونے والے فلسطینی ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ پچھلے کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ فلسطین میں قومی حکومت کے قیام کے بعد فلسطینی اتھارٹی حماس کے دور حکومت میں غزہ میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
