غزہ سیکرٹری وزارت زراعت اور معیشت نعیم عابد نے مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ غزہ کی معیشت ناقابل بیان حد تک تباہی سے دوچار ہوچکی ہے۔ ہرآنے والا دن فلسطینیوں کے لیے ایک نئی مشکل پیدا کررہا ہے۔ اگر اسرائیل کی جانب سے معاشی پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو غزہ کی معیشت کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نعیم عابد کا کہنا تھا کہ مصر اور غزہ کی پٹی کی سرحد پربنائی گئی سرنگیں غزہ کے عوام لیے شہ رگ کا کام دیتی تھیں۔ سرحد بند ہونے کی صورت میں فلسطینی شہری ان سرنگوں کی مدد سے اشیائے ضروریہ مصرسے لے کرغزہ پہنچاتے تھے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی سامان بھی ان سرنگوں کے ذریعے غزہ پہنچتا رہا ہے تاہم اب مصری فوج کی جانب سے سرنگیں مسمار کیے جانے کے بعد فلسطینیوں کے پاس معیشت کی گاڑی چلانے کے لیے اور کوئی متبادلی راستہ نہیں بچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے تین بار غزہ کی پٹی پرجنگ مسلط کرکے رہی سہی کسربھی نکال دی ہے۔ غزہ میں بے روزگاری کی شرح 62 فی صد سے تجاوز کرچکی ہے۔ غزہ کی پٹی کے 30 فی صد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں فلسطینی اتھارٹی نے روک رکھی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
