(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقد ہونے والے عرب ہنگامی سربراہی اجلاس میں عرب رہنماؤں کے سامنے غزہ کی تعمیر نو ک امصری منصوبہ پیش کیا گیا جس کو تمام شرکاء نے متفقہ تسلیم کیا ل۔
یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے حقوق اور وقار کے تحفظ پر مبنی ہے اور اس کے تحت غزہ کے امور کو عبوری طور پر چلانے کے لیے ایک آزاد انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو چھ ماہ کے لیے ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ یہ کمیٹی غیر جانبدار ماہرین (تکنوکریٹس) پر مشتمل ہوگی اور فلسطینی حکومت کے ماتحت کام کرے گی۔
منصوبے کے مطابق، اس عبوری انتظامی کمیٹی کو فوری طور پر تشکیل دیا جائے گا تاکہ وہ آئندہ مرحلے میں مکمل طور پر غزہ کی انتظامیہ سنبھال سکے اور فلسطینی فیصلہ سازی کے تحت امور انجام دے۔
بیان میں کہا گیا کہ مصر اور اردن، فلسطینی پولیس فورس کے اہلکاروں کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ انہیں غزہ میں تعینات کیا جا سکے۔ اسی تناظر میں، عالمی اور مالیاتی معاونت کے حصول کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ مصر اور اردن کے ان اقدامات کی حمایت کی جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے تاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جامع فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
مصری منصوبے میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں عام شہریوں کی شہادت، ان پر حملوں اور غزہ میں انسانی بحران کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ "دو ریاستی حل” بین الاقوامی قانون اور عالمی برادری کی نظر میں واحد قابل قبول حل ہے اور غزہ فلسطینی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے۔
اس منصوبے میں فلسطینیوں کے اپنے وطن میں قیام اور جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انسانی بنیادوں پر فلسطینی عوام کی مشکلات کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔
مزید برآں، بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام سے ان کے وطن کا حق چھیننے یا ان کے ریاستی خواب کو کچلنے کی کسی بھی کوشش کا نتیجہ مزید تنازعات اور عدم استحکام کی صورت میں نکلے گا۔
مصری منصوبے میں زور دیا گیا کہ غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے، موجودہ سیز فائر کو مستحکم کیا جائے اور تمام فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی، اس امر کو بھی واضح کیا گیا کہ تعمیر نو کے عمل کے لیے عبوری حکمرانی اور سیکیورٹی کے موثر انتظامات ضروری ہیں، تاکہ دو ریاستی حل کے امکانات محفوظ رہ سکیں۔
عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ مصر، قطر اور امریکہ کی جنگ بندی کے استحکام کی کوششوں کی حمایت کرے، کیونکہ جنگ بندی کے خاتمے کی صورت میں انسانی امداد اور تعمیر نو کے کاموں میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کے اپنے وطن میں قیام کے حق کو ترجیح دی جانی چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فلسطینیوں کو اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لیے قانونی اور سیاسی حقوق دیے جائیں، جو غزہ اور مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل کے ساتھ ہو۔
آخر میں، منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی قیادت کو زیادہ اختیارات دیے جائیں، فلسطینی اداروں کو مضبوط کیا جائے، اور تعمیر نو کے عمل میں فلسطینی عوام کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔