(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قابض حکومت مسلسل غزہ کے تباہ حال علاقے میں امداد کی ترسیل کو روک رہی ہے، جسے مزاحمت کے خلاف دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ میں تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے اور اپنی خلاف ورزیوں میں شدت لا رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ غاصب صیہونی افواج کی جانب سے غزہ کو بجلی کی فراہمی روکنے کے نتیجے میں شہریوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایندھن کی ترسیل بھی ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے معطل ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ایک ترجمان نے فرانس پریس کو بتایا: "اسرائیل کا یہ فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے۔ بجلی کی بندش اور ایندھن کی ترسیل معطل ہونے کے باعث، پانی صاف کرنے والے آخری پلانٹس، طبی ادارے اور روٹیاں بنانے والے تنور بند ہونے کے قریب ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔”
دوسری جانب، رائٹرز کے مطابق، پیر اور منگل کی درمیانی شب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان غزہ کی تعمیر نو پر گفتگو ہوئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی کہ روبیو نے "واشنگٹن کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ غزہ کی صورتحال کا کوئی بھی حل حماس کے کردار کے بغیر ہونا چاہیے۔”
