(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج میں اس وقت اس کے فوجیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور شدید تھکن کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ صیہونی ریاست کے عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت” کے مطابق، فوج کے باقاعدہ سروس میں موجود فوجیوں کو بھاری ذمہ داریوں کا سامنا ہے، وہ "شدید تھکن اور مسلسل کام کے دباؤ میں مبتلا ہیں، اور انہیں چھٹیوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔”
یہ صورتحال اس وقت مزید نمایاں ہوگئی جب 7 اکتوبر کے حملے سے متعلق فوجی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ پانچ سال قبل صیہونی فوجی قیادت نے اختتامِ ہفتہ پر لڑاکا فوجیوں کی تعداد کو تقریباً نصف تک کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے حالیہ دنوں میں فوج کے جنوبی کمانڈ نے "غلط فیصلہ” قرار دیا ہے۔ اس پالیسی کا خمیازہ "طوفان الاقصیٰ” آپریشن کے دوران خاص طور پر "ناحل عوز” فوجی اڈے پر بھگتنا پڑا، جہاں 53 فوجی ہلاک ہوئے۔
غزہ پر نسل کشی سے قبل، فوجی ہر دو ہفتے بعد ایک ماہانہ چھٹی پر جاتے تھے، لیکن نسل کشی کے آغاز کے بعد سے یہ پالیسی ختم کر دی گئی ہے۔ اب صیہونی فوج اس دباؤ سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ اگلے کئی سالوں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر ان فوجیوں کے لیے جو باقاعدہ سروس میں ہیں، نہ کہ صرف ریزرو فوجیوں کے لیے۔
اس حوالے سے، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج کی "آپریشنز ڈویژن” کا اندازہ ہے کہ ریاست کو اب غیر معمولی انسانی وسائل کے بحران کا سامنا ہے، جو 2000 میں لبنان پر ناجائز قبضے اور اس سے انخلا کے بعد سے نہیں دیکھا گیا تھا۔ یہ بحران دوسری انتفاضہ کے دوران بھی جاری رہا تھا۔
اخبار کے مطابق، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صیہونی ریاست اپنی جنگیں حزب اللہ، حماس، اور دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف جاری رکھے گی تاکہ انہیں دوبارہ طاقت حاصل کرنے اور متوازن ہونے سے روکا جا سکے۔ صیہونی ریاست کو خدشہ ہے کہ اگر یہ گروہ مستحکم ہو گئے تو وہ "مکمل افواج” کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جیسا کہ جنگ سے پہلے تھے، کیونکہ اس وقت تک صیہونی ریاست کی پالیسی "تحمل اور سکون” کی رہی تھی۔
چھٹیوں میں مزید کمی اور دباؤ میں اضافہ
ایسی صورتحال میں، فوجیوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ اور سخت حالات کی وجہ سے انہیں کم از کم 17 دن کی سروس کے بعد صرف 3 دن کی چھٹی دی جا رہی ہے، اور وہ بھی صرف ایک بار ماہانہ۔ اگر کسی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا تو یہ چھٹی بھی منسوخ کر دی جائے گی۔ صیہونی فوج کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد ریزرو فوجیوں پر دباؤ کم کرنا ہے، لیکن اس کا اصل خمیازہ وہ ہزاروں فوجی بھگت رہے ہیں جو مسلسل محاذوں پر تعینات ہیں۔
یہ اضافی دباؤ اس لیے بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ صیہونی فوج نے لبنان کے اندر نئے فوجی اڈے قائم کیے ہیں، جبل الشیخ، شامی گولان کی پہاڑیوں، اور غزہ میں ایک "بفر زون” قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، غزہ کے اطراف اور شمال میں "الجلیل بریگیڈ” میں دو سے تین گنا زیادہ فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں جتنے کہ 6 اکتوبر 2023 کو تھے۔ اس صورتحال میں آئندہ کئی سالوں تک کوئی تبدیلی متوقع نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر حالات میں کوئی بہتری بھی آئے۔
صیہونی فوج میں شدید بحران اور نئی بھرتیوں کی ضرورت
یہی نہیں، بلکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر بھی شدید دباؤ میں ہیں، کیونکہ فوج میں "بے حد افرادی قوت کی کمی” ہے، جبکہ صیہونی سیاسی قیادت اس مسئلے کو حل کرنے میں بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ حکومت اب تک "حریدی” (انتہائی مذہبی یہودیوں) کو فوج میں بھرتی کرنے کے حوالے سے کوئی قانون پاس نہیں کر سکی ہے، جبکہ جنگ میں اب تک 10 ہزار صیہونی فوجی یا تو ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، باقاعدہ سروس میں موجود فوجیوں پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
اخبار کے مطابق، اس بحران کا ایک اور سبب حال ہی میں چیف آف اسٹاف زامیر کی جانب سے کیے گئے وہ فیصلے ہیں جن کے تحت ایک اضافی انفنٹری بریگیڈ، کم از کم ایک مکمل انجینئرنگ بٹالین، اور وہ آرمرڈ بٹالینز دوبارہ بحال کی جا رہی ہیں جو ماضی میں ختم کر دی گئی تھیں۔ اس فیصلے سے براہِ راست ہزاروں نئے فوجیوں کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے، جنہیں فی الحال کہیں سے بھی دستیاب کرنا مشکل ہے۔
دوسری جانب، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت نے حال ہی میں "آرڈر 8” کے تحت 400,000 ریزرو فوجیوں کی بھرتی کی منظوری دے دی ہے، اور ان کی تعیناتی مزید تین ماہ کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق، "یہ سال، پچھلے سال کی طرح، ایک جنگی سال ہے۔”