(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) عرب دنیا سمیت بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ دہشتگردانہ کارروائیاں شروع کرنے کی شدید مذمت جاری ہے، اور فوری طور پر جنگ بندی کی بحالی کا مطالبہ کیا جا ہا تاکہ "تباہی اور وحشیانہ بمباری کی مہم” کو دوبارہ شروع ہونے سے روکا جا سکے۔ یہ جنوری میں قطر، مصر، اور امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے کمزور جنگ بندی معاہدے کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔
متعدد ممالک اور تنظیموں نے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، فلسطینیوں کو بنیادی امداد اور ضروری اشیاء تک بلا روک ٹوک رسائی دینے، اور زخمیوں و بیماروں کو علاج کے لیے سفر کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے، بشرطیکہ انہیں باعزت اور محفوظ واپسی کا حق دیا جائے۔
مزید برآں، ان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے شہریوں اور رہائشی علاقوں پر فضائی حملے فلسطینی سرزمین میں صورتحال کو مزید بھڑکائیں گے اور خطے کو مزید عدم استحکام، تشدد اور کشیدگی کی نئی سطح پر لے جائیں گے۔
اسی دوران، دنیا کے کئی دارالحکومتوں اور شہروں میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے دوبارہ آغاز کے خلاف مظاہرے ہوئے، جن میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو فوری روکنے اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
گزشتہ روز منگل کی صبح سے، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اچانک اپنی نسل کشی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، اور وسیع پیمانے پر وحشیانہ فضائی حملے کیے، جن میں سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو گئے۔ ان حملوں میں رہائشی مکانات، پناہ گزین مراکز، اور بے گھر افراد کی خیمہ بستیاں نشانہ بنائی گئیں، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی اور بے مثال انسانی بحران پیدا ہوا۔