الخلیل – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ)قابض اسرائیلی افواج نے الخلیل شہر کے وسطی علاقے الحاووز میں واقع اسلامی چیریٹیبل سوسائٹی کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مار کر سابق وزیر اوقاف اور سوسائٹی کے صدر شیخ حاتم البکری کو گرفتار کر لیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج نے الحاووز کے علاقے میں سوسائٹی کے دفتر پر دھاوا بولا اور شیخ حاتم البکری کو حراست میں لے لیا۔ اس وحشیانہ کارروائی کے دوران وہاں موجود افراد بشمول وفا نیوز ایجنسی کے نامہ نگار جوید التمیمی کو بھی یرغمال بنا لیا گیا جن سے تاحال فیلڈ انویسٹی گیشن کے نام پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
اسی طرح منگل کے روز مغربی جنین میں واقع قصبے الیامون سے قابض اسرائیلی فوج کی ایک خصوصی فورس نے ایک فلسطینی نوجوان کو اغوا کر لیا۔ مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی یہ سپیشل فورس سویلین گاڑی میں چھپ کر الیامون کے داخلی راستے تک پہنچی اور وہاں سے نوجوان احمد ناجح ابو حسین کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے منگل ہی کے روز طولکرم کے مشرق میں واقع بلعا نامی بستی سے تین شہریوں کو گرفتار کیا۔ یہ گرفتاریاں قصبے پر کیے گئے ایک بڑے حملے کے دوران کی گئیں جو لگ بھگ 15 گھنٹے تک جاری رہا۔
ہماری نامہ نگار نے عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ قابض اسرائیل کی فوج نے فجر کے وقت قصبے پر دھاوا بولا اور شہریوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور تلاشی کی کارروائیاں کیں جس کے دوران گھروں کے قیمتی سامان کو نقصان پہنچایا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیلی افواج نے درجنوں شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو حراست میں لیا اور انہیں ایک فیلڈ انویسٹی گیشن سینٹر لے جایا گیا جو مقامی شہری خالد خضر کے گھر پر زبردستی قبضہ کر کے قائم کیا گیا تھا۔ قابض فوج نے اس گھر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا تھا جہاں نوجوانوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا جبکہ گھر کی چھت پر نشانہ باز (سنائپرز) تعینات رہے۔
قابض اسرائیل کی فوج نے اس کارروائی کے دوران 63 سالہ انور احمد اعمير الواوی، منصور حمدان الحج اور 34 سالہ احمد یوسف زریقی کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر محبوس افراد کو قصبے سے پسپائی سے قبل رہا کر دیا گیا۔