(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) متعدد عرب اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں غاصب اسرائیل کے ان حالیہ فیصلوں کی شدید مذمت کی ہے جن کا مقصد مقبوضہ فلسطینی اراضی پر قبضے کے دائرہ کار کو وسعت دینا ہے۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کے حصول کے مواقع کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔
اردن، سعودی عرب، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، مصر، لکسمبرگ، ناروے، فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا، اسپین، سویڈن اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے علاوہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرلز کی جانب سے جاری کردہ اس مشترکہ بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے پر غیر قانونی تسلط بڑھانے والے صیہونی فیصلوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اسرائیلی اقدامات میں فلسطینی اراضی کے وسیع رقبے کو نام نہاد ریاستی اراضی قرار دینا شامل ہے، جس کا مقصد آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیز کرنا اور مقبوضہ علاقوں پر صیہونی انتظامیہ کے کنٹرول کو مضبوط بنانا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ غاصب اسرائیلی بستیاں اور ان کو تقویت دینے والے تمام فیصلے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن میں اقوام متحدہ کی امن کونسل کی قراردادیں اور سنہ 2024ء میں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی رائے بھی شامل ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ پالیسیاں ناقابل قبول جبری الحاق (گریٹر اسرائیل) کی جانب بڑھ رہی ہیں اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو تباہ کر رہی ہیں۔
بیان میں بنجمن نیتن یاھو کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرے جو مقبوضہ فلسطینی اراضی کی قانونی اور انتظامی حیثیت کو تبدیل کرنے کا باعث بنے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ حالیہ فیصلے بستیوں کی تعمیر کی پالیسی میں بے مثال تیزی، بشمول پروجیکٹ E1 کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو فلسطینی ریاست کے قیام کے اجزاء اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر براہ راست حملہ قرار دیا۔
بیان میں میں سنہ 1967ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس کی آبادیاتی ساخت یا قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے ہر قسم کے جبری الحاق کی مخالفت کا اعادہ کیا گیا۔
مقبوضہ مغربی کنارہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر وزرائے خارجہ نے غاصب اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف غاصب آبادکاروں کے تشدد کو روکے اور ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بستیوں کی توسیع اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی بیت المقدس اور اس کے مقاماتِ مقدسہ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کی تائید کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے ٹیکس محصولات فوری طور پر رہا کر کے پیرس پروٹوکول کے تحت منتقل کیے جائیں، کیونکہ یہ رقوم غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ میں فلسطینیوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔