تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دنیا ایک بڑے خطرے سے دوچارہو چکی ہے۔ ٹرمپ کا رویہ دنیا کو انارکی کی طرف دھکیل کر بد امنی کو فروغ دینا ہے۔ امریکی صدر دوسری جنگ عظیم سے قبل اور بعد کا ماحول تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ دنیا کو ای ک مرتبہ پھر امریکی چنگل میں جکڑ لیا جائے۔ ٹرمپ کا یہ رویہ واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ امریکی اجارہ داری اور بالادستی کا نظام خاتمہ کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے جس کو بچانے کے لئے ٹرمپ نے پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے اور ایک ایسا جوا کھیلا ہے کہ جس کے بعد اب دنیامیں کوئی قانون باقی نہیں رہے گابلکہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہو گی جہاں ایک خاموش قانون موجود رہتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یعنی جس کے پاس طاقت ہے وہ کمزور ملک کو زیر کر لے اور اپنا فائدہ جائز یا ناجائز طریقہ سے حاصل کر لے۔یہی سب کچھ دوسری جنگ عظیم کےآغاز پر بھی ہوا تھا اور بعد میں بھی ہوا تھا۔آج بھی ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے دنیا کو ایک سو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔
دنیا ایک بار پھر اس تلخ حقیقت سے دوچار ہے کہ امریکہ جب بھی کسی آزاد، خودمختار اور مزاحمتی ریاست کو اپنے مفادات کے راستے میں رکاوٹ سمجھتا ہے تو وہ بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کو پامال کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اسی امریکی سامراجی سوچ کی تازہ اور شرمناک مثال ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔امریکہ کی جانب سے کسی خودمختار ملک کے منتخب صدر کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی نہ صرف وینزویلا کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک نظیر بھی ہے۔ یہ اقدام واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اپنے آپ کو عالمی قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اور طاقت کے بل پر دنیا کو اپنے فیصلے مسلط کرنا چاہتا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے اغوا، دہشت گردی اور سازش کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی سنہ 1989ءمیں امریکی حکومت نے پانامہ کے جنرل نوریگا کو ایک فوجی آپریشن کے ذریعہ اغوا کیا تھا اور ان کے خلاف میامی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دی گئی تھی اور اب ایک مرتبہ پھر نکولس مادورو کو وینزویلا سےاغوا کیا گیا ہے اور امریکی عدالت میں نیو یار ک میں مقدمہ چلا کر ان کو بھی سزا دے دی جائے گی۔ دوسری جانب نیو یار ک کے مئیر ظہران ممدانی نے ٹرمپ کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے اور مذمت بھی کی ہے لیکن ان کی مذمت اوراحتجاج بھی مادورو کو بچا نہیں سکتا۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادوروکا اغوا کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ امریکی تاریخ کی اسی جارحانہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت عراق، افغانستان، لیبیا، شام، ایران، کیوبا اور فلسطین جیسے ممالک کو نشانہ بنایا گیاہے ۔حال ہی میں ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ایران کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر ایران میں مظاہروں کے دوران کوئی شہری مارا گیا تو پھر امریکہ ایران پر حملہ کرے گا۔کیا واقعی امریکہ کو ایران کے شہریوں کی اس قدر پرواہ ہے ؟ کیا ٹرمپ کو اتنی پرواہ امریکی شہریوں کے لئے بھی ہے ؟ وہ امریکی شہری جنکی بڑی تعداد سڑکوں پر سوتی ہے، کھانے پینے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ لیکن کبھی بھی ٹرمپ نے ان کے بارے میں ایسی جارحانہ پالیسی نہیں اپنائی کہ ان کو فائدہ پہنچائے۔
دوسری طرف فلسطین میں غاصب اسرائیل اور نیتن یاہو نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کر دیا لیکن ٹرمپ کی زبان گونگی رہی ۔اب ایران کے لئے کہتے ہیں کہ ایک فرد بھی مظاہرے میں مارا گیا تو امریکہ برداشت نہیں کرے گا۔یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ امریکہ کو چھوڑ کر دنیا کے دیگر ممالک کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی کر رہاہے۔ آج ایران کے اندورنی معاملات میں امریکی دخل اندازی اور جارحیت پر خاموش رہنے والے ممالک کل عنقریب اس سے بد ترین صورتحال سے دوچار ہوں گے۔
امریکی حکومت کی یہ تاریخ یا یہ کہہ لیجئے کہ سیاہ ترین تاریخ رہی ہے کہ دنیا بھر میں خو دمختار ممالک کی حکومتوں کو گرانے کے لئے کہیں فوجی حملے، کہیں معاشی
پابندیاں، کہیں حکومتوں کی تبدیلی کی سازشیں اور کہیں رہنماؤں کے اغوا اور قتل یہ سب امریکی خارجہ پالیسی کے مستقل ہتھیار رہے ہیں۔امریکہ اگر کسی ملک کو اپنا مطیع نہ بنا سکے تو وہاں جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے نام پر مداخلت کو جائز قرار دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کا مقصد صرف وسائل پر قبضہ اور سیاسی کنٹرول ہوتا ہے۔ وینزویلا چونکہ اپنی خودمختار پالیسیوں اور قدرتی وسائل پر قومی اختیار کی بات کرتا ہے، اس لیے وہ امریکی غصے کا نشانہ بنا۔آج یہی ٹرمپ کھلم کھلا وینزویلا کے تیل کے بارے میں کہتا ہے کہ امریکی کمپنیاں وینزویلا کے تیل کو فروخت کریں گی۔ یہ کھلم کھلا کسی بھی خود مختار ملک کے خلاف دہشتگردی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نکولس مادوروکے اغوا پر عالمی برادری، خاص طور پر وہ ممالک جو انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئن بنے پھرتے ہیں، خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی بڑی بزدلی بھرے لہجہ میں مذمت کی اور امریکہ یا پھر ٹرمپ کا نام تک نہیں لیا۔یہ خاموشی دراصل امریکی جارحیت کی بالواسطہ حمایت کے مترادف ہے۔ اگر یہی اقدام کسی غیر مغربی طاقت کی جانب سے کیا جاتا تو آج عالمی میڈیا میں شور برپا ہوتا، لیکن امریکہ کے لیے الگ معیار کیوں؟اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ اس وقت بری طرح مجروح ہوتی ہے جب وہ طاقتور ممالک کے جرائم پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور کمزور اقوام کے خلاف فوری فیصلے صادر کرتے ہیں۔اس رویہ نے ثابت کر دیا ہے کہ دنیا میں اب قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے بلکہ اب جنگل کا قانون ہے اور جو طاقتور ہو گا وہی باقی رہے گا۔ یعنی دنیا کو دوسری جنگ عظیم سے زیادہ خطر ناک ماحول کی طرف دھکیلا جا رہاہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکی دباؤ، پابندیوں اور جارحیت کے باوجود جو اقوام ڈٹی رہیں، وہی سرخرو ہوئیں۔ نکولس مادوروکا اغوا دراصل وینزویلا کی مزاحمتی سیاست کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔مادورو کا اغوا ثابت کرتا ہے کہ امریکی حکومت بے بس اور لاچار ہو چکی ہے۔ جہاں گفتگو اور دلیل نہ ہو وہاں بدمعاشی اور دھونس دھمکی چلائی جاتی ہے۔ امریکی حکومت کا رویہ شکست خوردہ ہے۔ نکولس مادورو کا اغوا کرنا امریکہ کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ذلت آمیز شکست کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ اقدام امریکی کمزوری اور خوف کی علامت ہے، نہ کہ طاقت کی۔دنیا کے آزاد اور خوددار ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس امریکی اقدام کی کھل کر مذمت کریں، وینزویلا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور اس خطرناک رجحان کو روکنے کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔نکولس مادورو کا اغوا ایک فرد پر نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک خودمختار ریاست اور عالمی قانون پر حملہ ہے۔ امریکہ کو یہ باور کرانا ہوگا کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی اور جارحیت، اغوا اور دھونس کے ذریعے عالمی قیادت ممکن نہیں۔ اگر آج اس اقدام کے خلاف آواز نہ اٹھی تو کل کسی اور ملک، کسی اور رہنما کی باری ہو سکتی ہے۔
