• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 24 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

امریکی صحافی ٹکر کارلسن کی تنقید، اسرائیل امریکہ کے لیے سب سے بڑا بوجھ

کانگریس کے قائدین اپنے ووٹرز کے بجائے تل ابیب کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں

پیر 23-02-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں
0
امریکی صحافی ٹکر کارلسن کی تنقید، اسرائیل امریکہ کے لیے سب سے بڑا بوجھ
0
SHARES
0
VIEWS

نیویارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے امریکہ اور غاصب اسرائیل کے تعلقات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی سرحدوں سے باہر امریکہ کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے امریکی ووٹرز کے مفادات پر تل ابیب کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اسرائیل کے دورے کے بعد سعودی چینل ’روتانا خلیجیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ امریکہ اور غاصب اسرائیل کے تعلقات واشنگٹن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ غاصب اسرائیل ہماری سرحدوں سے باہر ہمارے لیے سب سے بڑا بوجھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس کا ذمہ دار صہیونی حکومت کو نہیں ٹھہراتے کیونکہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹکر کارلسن نے اشارہ کیا کہ غاصب اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ہر ممکن طریقے سے اپنے ملک کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے امریکہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی قائدین اس صورتحال کی اجازت کیوں دے رہے ہیں۔

انہوں نے امریکہ کے اندر موجود ان دباؤ گروپس کی طرف اشارہ کیا جو امریکی وسائل کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کی جنگ کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غاصب اسرائیل کی خاطر ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا امریکہ کے مفاد میں کیسے ہو سکتا ہے۔؟

ٹکر کارلسن کا ماننا ہے کہ یہ رجحان نہ تو امریکہ کے مفاد میں ہے نہ خطے کے ممالک کے لیے اور نہ ہی خود غاصب اسرائیل کے حق میں ہے کیونکہ تل ابیب اپنے طویل مدتی مفادات کو صحیح طرح سے نہیں سمجھ رہا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک معیشت، قومی اتحاد اور ہجرت جیسے سنگین بحرانوں کا شکار ہے اور امریکی قائدین سے یہ تقاضا ہے کہ وہ بنجمن نیتن یاھو کے مطالبات میں مگن رہنے کے بجائے بیرونی دباؤ کو مسترد کریں۔

ٹکر کارلسن نے ان امریکی قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کی وفاداری اپنے ملک سے زیادہ غاصب اسرائیل کے ساتھ ہے، انہوں نے اسے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کا اصل مسئلہ قرار دیا۔

انہوں نے غاصب اسرائیل کے حامی سینیٹرز ٹیڈ کروز اور لنڈسے گراہم جیسے رہنماؤں پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنے ووٹرز کے مطالبات کے مقابلے میں غاصب اسرائیل کے مطالبات کو مقدم رکھتے ہیں۔

ٹکر کارلسن کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اشارے دے رہا ہے۔ دوسری جانب تہران کا موقف ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب مداخلت اور نظام کی تبدیلی کے لیے بہانے تراش رہے ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ٹکر کارلسن کے یہ موقف غاصب اسرائیل کے لیے نامزد امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ساتھ ان کے انٹرویو کے بعد سامنے آئے۔ مائیک ہکابی نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں غاصب اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے وسیع حصوں پر قبضے میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ مائیک ہکابی نے اس جارحیت کے لیے مذہبی تشریحات اور ان بے بنیاد دعوؤں کا سہارا لیا کہ یہ نیل سے فرات تک پھیلا ہوا گریٹر اسرائیل ان کا توراتی حق ہے۔

Tags: Benjamin NetanyahuIranisraelLindsey GrahamMiddle EastTed CruzTucker CarlsonUS CongressUS Foreign PolicyUSA Relations
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.