روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ
غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کے آبادکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں تین فلسطینی شدید زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ شمال مشرقی القدس کی بلدیہ عناتا کے مشرق میں واقع بدوی سوسائٹی عرب نخیلہ الکعابنہ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
القدس گورنری نے بتایا کہ آبادکاروں نے حملے کے دوران سوسائٹی کے رہائشیوں پر براہ راست گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں تین شہری زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا۔ تاہم زخموں کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حملے کے فوراً بعد قابض اسرائیل کی فوج نے بلدیہ عناتا اور عرب نخیلہ الکعابنہ سوسائٹیوں پر دھاوا بول دیا۔ القدس گورنری کے مطابق اس کارروائی کے دوران کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی تاہم پورے علاقے میں قابض فوج کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔
قابض القدس کے نواح میں واقع بدوی تجمعات بالخصوص شہر کے مشرقی علاقوں میں آبادکاروں کے حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔ ان حملوں میں فائرنگ جسمانی تشدد اور املاک کی توڑ پھوڑ شامل ہے جو قابض فوج کی براہ راست سرپرستی میں انجام دیے جاتے ہیں۔
مراح رباح میں آبادکاروں کی جارحیت کا تسلسل
اسی روز پیر کی شام قابض اسرائیل کے انتہا پسند آبادکاروں نے جنوبی مغربی کنارے میں بیت لحم شہر کے قریب فلسطینی شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی اور ایک اور گاڑی پر پتھراؤ کیا۔
عینی شاہدین نے تصدیق کی کہ آبادکاروں نے مراح رباح گاؤں کے قریب ایک فلسطینی شہری گاڑی پر فائرنگ کی جبکہ دوسری گاڑی کو پتھروں سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ان حملوں کے نتیجے میں چند فلسطینی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم خوش قسمتی سے کسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ تمام حملے ایک منظم اشتعال انگیز پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد فلسطینی آبادی کو خوف زدہ کرنا اور انہیں جبری طور پر اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا ہے تاکہ القدس کے گرد قائم غیر قانونی آبادکاریوں کو وسعت دی جا سکے۔